پاکستان میں ریلوے آپریشن 24 اپریل تک بحال نہ کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے ریلویز کے وزیر شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مسافر ریل گاڑیوں کے آپریشن کی 15 اپریل سے بحال کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
ایک ویڈیو پیغام میں شیخ رشید احمد نے کہا کہ مسافر ریل گاڑیوں کی بحالی کا فیصلہ صورت حال کر دیکھ کر کیا جائے گا۔ تاہم 24 اپریل کی رات تک کوئی بھی مسافر ریل گاڑی نہیں چلے گی۔
انہوں نے ریل گاڑی کے ڈبوں کو بطور قرنطینہ سینٹر یا اسپتال کے استعمال کرنے کی بھی پیشکش کی۔
شیخ رشید احمد کے مطابق مال بردار گاڑیاں بدستور اپنی سروس جاری رکھیں گی۔
افغانستان میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کی تیاری
افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو طورخم بارڈر کے راستے واپس لانے کے لیے تیاریوں کے حوالے سے اجلاس صوبہ خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلعے خیبر میں ہوا۔
اجلاس سے خطاب میں ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر محمود اسلم وزیر نے کہا کہ افغانستان میں پھنسے ہوئے پاکستان کے ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو طورخم کے راستے لانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔
ان کے بقول حکومت کی طرف سے اعلان اور احکامات کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لنڈی کوتل اور جمرود میں افغانستان سے آنے والے پاکستانی شہریوں کے لیے قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔
محمود اسلم وزیر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں ایک ہزار افراد کے لیے قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ افغانستان سے آنے والے تمام افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جائیں گے اور 14 دن کے لیے قرنطینہ سی میں ان کو رکھا جائے گا۔
ان کے مطابق 300 سے زائد پولیس کے جوان سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔
دیواریں بھی کہتی ہیں 'کرونا' سے بچیے
دنیا کا کوئی بھی ملک ہو یا شہر، ہر جگہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے بعد اب دیواروں پر بنے خوبصورت اور رنگ برنگے خاکوں کی مدد سے بھی لوگوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔
- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا: اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے مجسٹریٹ کے اختیارات
خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں کرونا وائرس کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کو مزید موثر بنانے کے لیے اسسٹنٹ کمشنرز اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کو فرسٹ کلاس مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ اختیارات ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور پبلک ہیلتھ ایکٹ کے تحت دیے گئے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنرز قانون کے تحت سزا دینے کے مجاز ہو گئے ہیں۔ جب کہ ڈپٹی کمشنرز افسران کے اختیارات کے استعمال کے لیے حدود کا تعین کریں گے۔