پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کا اعلان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن آگے لے کر جا رہے ہیں۔ آئندہ دو ہفتے بھی لاک ڈاؤن رہے گا۔
کرونا وائرس جتنا پاکستان میں پھیلنے کے اندازے تھے اس کے مقابلے میں صرف 30 فی صد پھیلا ہے۔ ملک میں عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔
قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اندازے کے مطابق اب تک 190 سے زائد افراد کی ہلاکت ہونی چاہیے تھی تاہم اموات اس سے نصف ہیں۔
انہوں نے امریکہ، اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کبھی بھی پھیل سکتا ہے اس لیے احتیاط لازم ہے۔ اگر پاکستان میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا تو صحت کا نظام اس کے قابل نہیں ہے۔
وزیراعظم نے تعمیرات کی صنعت کو کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو کھول رہے ہیں، آرڈیننس بھی جاری ہوگا۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مشکلات کا احساس تھا۔ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے دکان دار بے روزگار ہو گئے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر دہاڑی دار طبقے کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا میں لاک ڈاؤن ہوچکےہیں۔ پاکستان نے بھی لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا۔
چین میں موجود پاکستانی طلبہ پریشان
چین کے صوبے ہوبے کے شہر ووہان میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔ اسی شہر سے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا تاہم اب اسے کھول دیا گیا ہے اور معاشی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ووہان شہر میں دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے ہزاروں طلبہ بھی مختلف تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں زیرِ تعلیم ہیں۔ یہ پاکستانی طلبہ کئی ماہ تک ذہنی کرب اور اپنوں سے دوری کی تکلیف میں مبتلا رہے۔
اب جب کہ ووہان میں کرونا وائرس پر کنٹرول کا دعویٰ کیا جا رہا ہے جب کہ پاکستان میں اس کے کیسز مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ایسے میں ان طلبہ کو یہ فیصلہ درپیش ہے کہ وہ پاکستان واپس جائیں یا چین میں ہی مقیم رہیں۔
عبادت کے طریقے بھی تبدیل، حفاظتی اقدام ضروری
کرونا وائرس کی وجہ سے جہاں دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن جاری ہے وہیں زندگی کے مختلف امور انجام دینے کے طریقے بھی تبدیل ہو گئے ہیں۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے کچھ مذہبی پیشوا کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ایک پلاسٹک شیٹ کے پیچھے بیٹھ کر عبادت میں رہے ہیں۔
مذہبی پیشواؤں کے اس اقدام کا مقصد وبا سے بچتے ہوئے عبادت جاری رکھنا ہے۔
'پاکستان کی معیشت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے'
عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات سے پاکستان کی معیشت مزید تنزلی کا شکار ہو سکتی ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ برائے مالی سال 2020 میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس کے بحران کے دوران دنیا بھر کی طرح پاکستان کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جس کے باعث ملک کی مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو منفی 1.3 فی صد تک کم ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 1952 میں تاریخ کی کم ترین سطح منفی 1.80 فیصد رہی تھی۔
اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے سال 2020 کے لیے عالمی معیشت کی شرح نمو کو 2.9 سے کم کرکے 2.4 فی صد کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ وبا کا پھیلاؤ عالمی شرح ترقی کو 1.5 فی صد تک سست کر سکتا ہے۔