'نیویارک میں پابندیوں میں نرمی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں'
نیویارک کے گورنر انڈریو کومو نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث عائد کی گئی پابندیوں میں نرمی اور مزید کاروبار کھولنے میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ہم ایک دو ہفتوں یا تین ہفتوں کی بات نہیں کر رہے۔ ہم کئی ماہ کی بات کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کا مرکز نیویارک ہے۔ جہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
انڈریو کومو نے کہا کہ نیویارک میں پابندیاں میں کمی اور کاروبار کا آغاز بتدریج ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کورنا وائرس کے باعث عائد پابندیاں تیزی سے نرم کرنے سے تباہ کن نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
'فرانس میں لاک ڈاؤن 11 مئی تک جاری رہے گا'
فرانس میں حکومت نے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں مزید توسیع کر دی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمنوئل میکخواں نے پیر کو ٹیلی ویژن پر خطاب کے دوران کہا کہ فرانس میں لاک ڈاؤن 11 مئی تک جاری رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ 11 مئی کے بعد اسکولوں کو مرحلہ وار کھول دیا جائے گا۔
فرانس میں ابھی تک کرونا وائرس کو پھیلنے سے نہیں روکا جا سکا ہے اور ملک بھر میں شدید تناؤ کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
صدر کا کہنا تھا کہ کوشش جاری رکھنا ہوں گی اور متعلقہ ضابطوں کا مسلسل اطلاق کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ضابطوں پر جس قدر پابندی سے عمل کیا جائے گا اس سے مزید زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔
چیف جسٹس آف پاکستان کا کرونا ٹیسٹ منفی
سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کے نائب قاصد کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد چیف جسٹس اور ان کے اہل خانہ کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا جو منفی آیا ہے۔
سپریم کورٹ کی طرف سے ایک نائب قاصد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمٰی کے سٹاف ممبر میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
نائب قاصد احسان کا علامات ظاہر ہونے پر ٹیسٹ کرایا گیا تھا، ابتدائی طور پر رپورٹ میں شک ظاہر کیا گیا تھا لیکن دوسری بار یہ ٹیسٹ کیے جانے پر رپورٹ مثبت آئی۔ جس کے بعد چیف جسٹس کے خاندان کے افراد اور سیکرٹری کے کرونا ٹیسٹ بھی کرائے گئے، تمام افراد کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔
سپریم کورٹ ترجمان کے مطابق نائب قاصد احسان کا کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر اسے پولی کلینک آئسولیشن وارڈ منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اسے علاج معالجے کی سہولیات دی جا رہی ہیں۔
پاکستان میں کرونا کے کیسز کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے اور حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔
پاکستان میں جزوی لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے توسیع کا اعلان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن آگے لے کر جا رہے ہیں۔ آئندہ دو ہفتے بھی لاک ڈاؤن رہے گا۔
کرونا وائرس جتنا پاکستان میں پھیلنے کے اندازے تھے اس کے مقابلے میں صرف 30 فی صد پھیلا ہے۔ ملک میں عوامی اجتماعات کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رہے گا۔
قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اندازے کے مطابق اب تک 190 سے زائد افراد کی ہلاکت ہونی چاہیے تھی تاہم اموات اس سے نصف ہیں۔
انہوں نے امریکہ، اٹلی اور اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کبھی بھی پھیل سکتا ہے اس لیے احتیاط لازم ہے۔ اگر پاکستان میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا تو صحت کا نظام اس کے قابل نہیں ہے۔
وزیراعظم نے تعمیرات کی صنعت کو کھولنے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ تعمیراتی شعبے کو کھول رہے ہیں، آرڈیننس بھی جاری ہوگا۔
لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی مشکلات کا احساس تھا۔ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے دکان دار بے روزگار ہو گئے۔ مجھے سب سے زیادہ فکر دہاڑی دار طبقے کی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ساری دنیا میں لاک ڈاؤن ہوچکےہیں۔ پاکستان نے بھی لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے لاک ڈاؤن کیا۔