20 لاکھ مریض، سوا لاکھ اموات
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد لگ بھگ 20 لاکھ اور اموات کی تعداد سوا لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ ان میں چھ لاکھ مریضوں اور 26 ہزار ہلاکتوں کا تعلق امریکہ سے ہے۔
کینیڈا اور ترکی میں پہلی بار ایک دن میں سو سے زیادہ لوگ مرے ہیں، جبکہ ایران میں ایک مہینے کے بعد پہلی بار 24 گھنٹوں میں سو سے کم اموات ہوئی ہیں۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، منگل کو عالمگیر وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ گئی۔ ان میں 83 ہزار اموات یورپ میں ہوئی ہیں۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 778، فرانس میں 762، اٹلی میں 602، اسپین میں 499، جرمنی میں 301، بیلجیم میں 254، برازیل میں 204، نیدرلینڈز میں 122، کینیڈا میں 118، سویڈن میں 114 اور ترکی میں 107 افراد کا انتقال ہوا۔ ایران میں 98 اور انڈونیشیا میں 60 ہلاکتیں ہوئیں۔
امریکہ میں منگل کی شام تک 2348 اموات ہوچکی تھیں اور کل تعداد 26 ہزار تک پہنچ گئی تھیں۔ اٹلی میں کل تعداد 21067، اسپین میں 18255، فرانس میں 15729 اور برطانیہ میں 12107 ہے۔
ایران میں 4600، بیلجیم میں 4100، جرمنی میں 3500، چین میں 3300، نیدرلینڈز میں 2900، برازیل میں 1500، ترکی میں 1400، سوئزرلینڈ میں 1100 اور سویڈن میں ایک ہزار سے زیادہ افراد موت کے منہ میں جاچکے ہیں۔
امریکہ میں سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک ہے جہاں 2 لاکھ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے اور 10800 سے زیادہ شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ نیوجرسی میں 2800، مشی گن میں 1700 اور لوزیانا میں ایک ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔
امریکی انتظامیہ اور 6 ایئرلائنز کا 25 ارب ڈالر پیکیج پر اتفاق
امریکی محکمہ خزانہ نے منگل کو بتایا ہے کہ ملک کی اہم ایئر لائنز نے اپنے عملے کو تنخواہ دینے کے لیے اصولی طور پر 25 ارب ڈالر کے امدادی پیکیج پر اتفاق کیا ہے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کی وجہ سے سفر بند ہوجانے اور بدتر معاشی صورتحال سے نکلنے میں مدد دینا ہے۔
چھ بڑے فضائی اداروں امریکن ایئرلائنز گروپ، یونائٹڈ ایئرلائنز ہولڈنگز، ڈیلٹا ایئرلائنز، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز، جیٹ بلو ایئرویز اور الاسکا ایئرلائنز کے علاوہ کئی چھوٹی ایئرلائنز نے بھی اس پیکیج سے اتفاق کیا ہے۔
محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''ہم ایئرلائنز کے ساتھ مل کر معاملات طے کرنے اور جلدازجلد رقوم جاری کرنا چاہتے ہیں۔''
گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ کے طے کردہ ضابطہ کار کے مطابق بڑی ایئرلائنز جاری کردہ فنڈ کا 30 فیصد حکومت کو واپس کریں گی، جو قرضے کی اصل رقم کے 10 فیصد کے مساوی ہوگا۔
یہ رقوم تنخواہ کی ادائیگی اور دیگر فوائد کی مد میں ہوں گی جو 2019ء کی دوسری اور تیسری سہ ماہی کے لیے ہیں۔ امریکن اور یونائٹڈ کو تقریباً چھ چھ ارب ڈالر؛ ڈیلٹا کو تقریباً 5.6 ارب، سائوتھ ویسٹ کو اندازاً 4 ارب جبکہ جیٹ بلو اور الاسکا ایئرلائنز کو 1.2 ارب ڈالر دیے جائیں گے۔
امریکی ایئرلائنز 25 ارب ڈالر کے قرض کے لیے علیحدہ درخواست دے سکیں گی جو حکومت کے 2.3 ٹریلین ڈالر کے ریلیف پیکیج میں سے فراہم کیے جائیں گے۔
کرونا وائرس سے پناہ گزینوں کے بچاو کے لئے 255 ملین ڈالر درکار
ایک ایسے وقت میں جب کرونا وائرس کی وبا پھیلی ہوئی ہے اور اس سے محفوظ رہنے کے طریقوں میں سب سے اہم سماجی فاصلہ اور ہاتھوں کو بار بار صابن اور صاف پانی سے دھونا ہے، دنیا بھر میں پناہ گزینوں کے کیمپوں میں ان اقدامات پر عمل کرنا ناممکن حد تک مشکل ہے۔
اقوام متحدہ کا پناہ گزینوں کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) اپنے طور پر ان پناہ گزینوں کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کر رہا ہے۔
ادارے کے ترجمان، بابر بلوچ نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ابھی تک صرف جرمنی میں مقیم کچھ پناہ گزیں اس مرض میں مبتلا پائے گئے۔ لیکن، یو این ایچ سی آر تمام ملکوں سے جہاں پناہ گزیں مقیم ہیں کہہ رہا ہے کہ وہ اپنے نیشنل ایکشن پلان میں ان پناہ گزینوں کو بھی شامل کریں۔
انہوں کہا کہ پاکستان اور ایران نے اس سلسلے میں مثبت جواب دیا ہے اور بقیہ ممالک بھی تعاون کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر نے اس مرحلے پر ان پناہ گزینوں کے لئے دنیا کے ملکوں سے 255 ملین ڈالر کی مدد کی اپیل کی ہے اور کئی ملکوں کی جانب سے مثبت جواب بھی مل رہا ہے۔
کرونا وائرس کس حد تک جان لیوا ثابت ہو رہا ہے؟
پوری دنیا کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔ اس مرض کے مختلف گوشوں کے بارے میں طرح طرح کے اندازے اور تخمینے لگائے جا رہے ہیں۔
ایک عام تخمینہ یہ ہے کہ مرض کا شکار ہونے والوں میں سے اعشاریہ صفر پانچ سے لے کر تین اعشاریہ صفر چار فی صد مریض موت کا شکار ہوتے ہیں۔
اتنے بڑے فرق کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ پوری دنیا میں اس وبا سے مرنے والوں کی درست تعداد رپورٹ نہیں ہوتی۔ پھر یہ تعین کرنا بھی مشکل ہے کہ کون کرونا کا شکار ہوا اور کون نہیں۔
عالمی ادرہ صحت کے مطابق، امراض قلب کی وجہ سے ہر سال پوری دنیا میں پچانوے لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ، دوسرے جان لیوا امراض بھی ہیں۔ بعض کا تعلق سانس اور پھیپڑوں کی بیماری سے ہے۔ مثال کے طور پر انفلوئنزا اور نمونیا۔ کرونا میں بھی یہی علامات پائی جاتی ہیں۔ دنیا کے ہر ملک کے پاس ایسے طریقے موجود نہیں کہ وہ ان کو الگ الگ طریقوں سے جانچ کر رپورٹ کریں۔
اس لیے بنیادی سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ درست تعداد کیا ہے؟ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب دنیا کے ہر فرد کا اس مرض کا ٹیسٹ ہو۔ فی الحال اس کا امکان دور دور نظر نہیں آتا۔