ترکی میں قانون سازی، ہزاروں قیدی عارضی طور پر رہا کیے جائیں گے
ترکی نے کرونا وائرس کے باعث جیلوں میں قید ایک تہائی افراد کو رہا کرنے کے لیے قانون سازی کر لی ہے۔
ترکی کے نشریاتی ادارے 'ٹی آر ٹی' کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ نے پینل ریفارمز بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کے تحت ہزاروں قیدوں کی سزاؤں میں کمی یا نرمی کی جا رہی ہے۔
پارلیمنٹ کے 600 میں سے 279 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا جب کہ 51 نے اس کی مخالفت کی۔
برطانوی خبر رساں ادارے ' رائٹرز' کے مطابق قیدیوں کی رہائی کے بل کی حمایت صدر رجب طیب ایردوان کی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) اور ان کی اتحادی قوم پرست جماعتوں نے کی۔
اس بل کی منظوری کے بعد عارضی طور پر 45 ہزار کے قریب قیدی رہا ہونے کا امکان ہے۔ نئے قانون کے مطابق عارضی طور پر رہا ہونے والے قیدیوں کو مئی کے آخر تک رہا کیا جائے گا۔
لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی، پنجاب اور سندھ میں محدود پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں بحال
پاکستان میں کرونا وائرس کے جائزہ اور اقدامات کے لیے قائم قومی رابطہ کمیٹی کی جانب سے لاک ڈاؤن میں جزوی نرمی کے فیصلے کے بعد پنجاب، سندھ اور اسلام آباد میں محدود پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منگل کو قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتوں کے لیے بڑھانے کی منظوری دی گئی تھی البتہ بعض صنعتوں اور کاروبار کو حفاظتی اقدامات کے ساتھ کھلنے کی اجازت دی گئی تھی۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے گزشتہ تین ہفتوں سے لاک ڈاؤن جاری ہے۔ ملک بھر میں اشیا ضروریہ اور ادویات کے علاوہ تمام کاروباری سرگرمیاں معطل تھیں۔
قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کی روشنی میں پنجاب، سندھ اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں محدود پیمانے پر کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں جب کہ خیبر پختونخوا حکومت اس حوالے سے بدھ کو کابینہ اجلاس میں فیصلہ کرے گی۔
بلوچستان کی حکومت نے جمعرات سے بعض کاروبار کھلنے کی اجازت کا حکم نامہ جاری کیا ہے۔
قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلے کے تحت ملک بھر میں مارکیٹیں اور بازار لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلے میں بھی بند رہیں گے۔
اس سے قبل مختلف تاجر تنظیموں نے حکومت سے احتیاطی تدابیر کے ساتھ کاروبار کھولنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اسلام آباد میں لاک ڈاؤن میں نرمی، کاروبار جزوی طور پر بحال
پاکستان میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی میں کاروبار جزوی طور پر بحال ہوگیا ہے۔ راولپنڈی میں اسلام آباد کی نسبت کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہیں جہاں الیکٹریشن، پلمبرز، کارپینٹرز، درزی اور حجام کی دکانیں کھل گئی ہیں۔
جڑواں شہروں کی سڑکوں پر ٹریفک بھی گزشتہ دنوں سے زیادہ نظر آرہی ہے۔ اسلام آباد کی مرکزی شاہراہ ایکسپریس ہائی وے، مارگلہ ایونیو، جناح ایونیو پر بھی شہریوں کی نقل و حمل میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتے تک توسیع کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اس دوران کچھ شعبوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اثر زیادہ دکھائی نہیں دے رہا۔ معروف مارکیٹ آبپارہ، بلیوائریا کی مارکیٹس میں کاروبار شروع نہیں ہوسکا تاہم سیکٹر جی نائن کے تجارتی مرکز کراچی کمپنی میں ورکشاپس کھلی ہیں۔
اسلام آباد میں صبح کے اوقات میں کچھ مراکز میں حجام، الیکٹریشن، سٹیشنری، درزی کی دکانیں کھولی گئیں تو تاجر تنظمیوں اور پولیس نے نوٹی فکیشن آنے تک ان کو بند کرا دیا۔
پولیس کی جانب سے اعلانات کیے جارہے ہیں کہ نرمی کا نوٹی فکیشن آنے تک پرانے ایس او پیز پر ہی عمل کیا جائے۔
راولپنڈی میں دکان داروں نے چھوٹے کاروبار کی اجازت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے لیکن جو کاروبار کھلے وہاں حفاظتی اقدامات زیادہ نظر نہیں آ رہے۔ دکان دار کہتے ہیں کہ وہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں گے۔
جڑواں شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ، عوامی اجتماعات، شادی ہالز، سنیما اور عوامی مقامات بدستور بند ہیں۔
کرونا سے بچاؤ کے لیے منظور پشتین کی اپیل
پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے ایک ویڈیو پیغام میں پشتونوں سے اپیل کی ہے کہ وہ وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
منظور پشتین کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا نے دنیا بھر میں تباہی مچا دی ہے۔ لاکھوں لوگ اس وبا سے بیمار ہوئے ہیں اور ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ مرض اب تک لاعلاج ہے۔ مگر ڈاکٹروں، علما، دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کی متفقہ رائے ہے کہ لوگ احتیاط کریں۔
اپنے پیغام میں منظور پشتین کا کہنا تھا کہ وہ پشتونوں سے اپیل کرتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر، صفائی اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔