افغانستان میں پھنسے پاکستانی سرحد پر واپسی کے احکامات کے منتظر
پاکستان اور افغانستان میں سرحدی گزرگاہیں بند ہونے سے سرحد پار پھنسے پاکستانی طورخم بارڈر پر پہنچ کر وطن واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس کے باعث سرحدی گزرگاہوں کی بندش سے افغانستان میں پھنسے اکثر پاکستانیوں کا تعلق سرحد سے ملحقہ قبائلی ضلعے خیبر سے بتایا جا رہا ہے۔
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما بھی روایتی جرگے کی مدد سے حکومت سے ان لوگوں کی جلد از جلد واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے سینیٹر تاج محمد آفریدی جو ایوان بالا (سینیٹ) میں سرحدی علاقوں کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں، نے اس سلسلے میں وزیر اعظم عمران خان کو خط بھی لکھا ہے۔
افغانستان سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں بالخصوص کابل اور جلال آباد میں پھنسے درجنوں افراد اتوار کو طورخم پہنچ گئے تھے جب کہ انہوں نے پاکستان واپسی کے لیے مظاہرہ بھی کیا۔
مظاہرین کو سرحدی حکام نے بتایا کہ ابھی تک اسلام آباد یا پشاور سے ان کی واپسی کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں باجماعت نماز پر پابندی ختم
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے مساجد میں باجماعت نماز اور نماز جمعہ میں صرف پانچ افراد کی پابندی ختم کر دی ہے۔
مساجد میں محدود اجتماعات پر پابندی کے خاتمے کا فیصلہ پاکستانی کشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے علما کے ساتھ ایک اجلاس میں کیا۔
وزیراعظم فاروق حیدر کی طرف سے جاری کیے گیے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی کشمیر میں نماز تراویح پر بھی کوئی پابندی نہیں لگائی جائے گی۔
البتہ اُن کا کہنا تھا کہ مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ پاکستانی کشمیر کی حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران علما کرام پر قائم کیے گئے مقدمات بھی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اس موقع پر علما نے ہیلتھ ایمرجنسی کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ کرونا کے مزید پانچ مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔ البتہ لاک ڈاون 29 اپریل تک جاری رہے گا۔
پاکستانی کشمیر کے حکومتی ترجمان ڈاکٹر مصطفی بشیر نے کہا کہ حکومت مرحلہ وار پابندیاں ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اب تک 46 افراد میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
ڈاکٹر مصطفی کا کہنا تھا کہ مساجد سے قالین ہٹا لیے جائیں گے جب کہ جراثیم کش اسپرے کرنے کے علاوہ نمازیوں کو ایک دوسرے سے دور کھڑے ہونے سے متعلق حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
اُن کا کہنا تھا کہ صورتِ حال کے پیشِ نظر مشتبہ افراد کو گھروں میں ہی قرنطینہ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کرونا وائرس کے باعث کان فلم فیسٹیول کا انعقاد مشکل
کرونا وائرس کی وبا نے رواں سال ہونے والے 73 ویں کان فلم فیسیٹول کا انعقاد بھی مشکل بنا دیا ہے. غالب امکان ہے کہ اس بار یہ فیسٹیول اپنی اصل شکل میں منعقد نہیں ہوسکے گا۔
رواں برس 12 سے 23 مئی تک ہونے والے اس فیسٹیول کو گزشتہ مہینے منتظمین نے جون یا جولائی تک موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم منتظمین کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعلان میں کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے اب شاید یہ فیسٹیول جون اور جولائی میں بھی منعقد نہ ہوسکے۔
کان کے صدر پیئرس لیسکیور کا کہنا ہے کہ انہیں امید تھی کہ مارچ کے آخر تک کرونا وائرس کا زور ٹوٹ جائے گا۔ جس کے بعد اسے مئی میں پُرسکون انداز سے منعقد کیا جاسکے گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے لاک ڈاؤن میں 11 مئی تک کی توسیع کے اعلان سے جولائی تک کسی بھی عوامی اجتماع کے انعقاد کی اجازت ناممکن ہوگئی ہے۔
اعلان کے سبب فیسٹیول کے جون یا جولائی میں انعقاد کے امکانات تقریبا ختم ہو گئے ہیں جب کہ فیسٹیول اگر رواں سال نئی تاریخوں پر ہوا بھی تو اسے مختصر یا محدود کیے جانے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی فنڈنگ روکنے پر چین سمیت دیگر ممالک کی امریکہ پر تنقید
چین نے عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ روکنے پر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے دنیا کے تمام ملک متاثر ہوں گے۔ خصوصاً اس وقت جب دنیا کرونا وائرس کی وبا کا سامنا کرتے ہوئے انتہائی اہم مرحلے میں پہنچ چکی ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت پر تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ کووڈ-19 کا مقابلہ مل کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان حالات میں سب سے اچھی بات یہ ہو گی کہ اقوام متحدہ اور خاص طور پر عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ بڑھاتے ہوئے اسے تعاون فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ ٹیسٹس اور ویکسین کی سہولتیں فراہم کرنے پر کام جاری رکھ سکے۔
یورپین یونین کی خارجہ امور کی پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے کہا ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی خدمات کی اس وقت پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور ان حالات میں صدر ٹرمپ کی ادارے پر تنقید بلا جواز ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ تاہم بہت سے ممالک میں ٹیسٹ کی سہولیات کی کمی کے باعث اس میں تیزی سے اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 26 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔
فرانس کا کہنا ہے کہ ملک میں 15 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ فرانس اس وقت امریکہ، اٹلی اور اسپین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتوں کے حوالے سے چوتھا ملک ہے۔
اٹلی اور سپین نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا ہے جبکہ فرانس نے لاک ڈاؤن کی پابندیوں میں توسیع کر دی ہے۔
امریکہ کی مغربی ریاست کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اسی وقت ختم کریں گے جب ریاست میں کرونا وائرس کے باعث استپال آنے والے مریضوں کی تعداد مسلسل دو ہفتے تک کم ہوتی رہے۔
گورنر کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹیسٹ وسیع پیمانے پر کیے جاتے رہیں اور طبی عملے کے لیے حفاظتی ساز و سامان کی فراہمی میں تسلی بخش طور پر اضافہ ہو۔ تاکہ کرونا وائرس میں مبتلا افراد کی بروقت نشاندہی کے بعد انہیں الگ کیا جا سکے۔
بھارت نے اعلان کیا ہے کہ پیداواری شعبے اور زراعت کے شعبے 20 اپریل سے کھول دیے جائیں گے تاہم ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیاں آئندہ ماہ کے آغاز تک جاری رہیں گی۔
ادھر نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدے دار رضاکارانہ طور پر اپنی تنخواہوں میں 20 فی صد کمی کر رہے ہیں۔ تاکہ اس وائرس کے تناظر میں ملک میں اقتصادی مشکلات کا سامنا کرنے میں مدد مل سکے۔