رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

09:17 18.4.2020

کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے، امریکہ کا پاکستان کو 80 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان

کرونا وائرس کے چیلنج سےنمٹنے کے کام میں مدد دینے کے لیے، امریکہ نے پاکستان کو مزید 80 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان میں امریکی سفیر، پال جونز نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں میں امریکہ پاکستان کا شراکت دار ہے۔

اس سے پہلے، امریکہ پاکستان کو اس وبا سے نمٹنے کے لیے بیس لاکھ ڈالر کی امداد دے چکا ہے۔

اس نئی امداد کے تحت امریکہ پاکستان کو تین موبائل لیبارٹریاں فراہم کرے گا، تاکہ وائرس سے متاثرہ علاقوں میں رہائشیوں کے ٹیسٹ کرانے،علاج کی سہولت فراہم کرنے کے کام میں معاونت کی جا سکے اور وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ان سہولتوں کی دستیابی پر 30 لاکھ ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔

اس کے علاوہ، امریکہ پاکستان میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ہنگامی آپریشن سینٹرز کے قیام میں بھی مدد دے گا۔ یہ سینٹر اسلام آباد، سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں قائم کیے جائیں گے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو حفظان صحت کے مقامی کارکنوں کی تربیت میں بھی تعاون کرے گا، تاکہ لوگوں کو گھروں میں دیکھ بھال کی سہولت فراہم کی جا سکے اور ہسپتالوں پر بوجھ کم ہو سکے۔

امریکہ پاکستان میں موجود افغان مہاجرین اور لوکل کمیونٹی کی دیکھ بھال کے لئے اقوام متحدہ کو چوبیس لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔

مزید پڑھیے

09:14 18.4.2020

کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کیسے ہو رہی ہے؟

پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی کے ایک قبرستان میں کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کے لیے جگہ مخصوص کی گئی ہے جہاں صرف چار افراد میت کی تدفین کرتے ہیں۔ کرونا سے مرنے والوں کی تدفین کا احوال جانیے ایک گورکن کی زبانی۔

کرونا سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کیسے ہو رہی ہے؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:57 0:00

09:14 18.4.2020

کرونا کے باعث افغانستان میں پھنسے پاکستانی شہریوں کی واپسی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنس جانے والے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کا عمل طورخم سرحد کے ذریعے جمعے کی صبح شروع کر دیا گیا ہے۔

افغانستان سے پاکستان واپس آنے والے باشندوں کے لیے لنڈی کوتل کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں قرنطینہ سینٹر قائم کیا گیا ہے۔ جس میں 1000 افراد کو رکھنے کی گنجائش ہے۔

انتظامیہ نے لنڈی کوتل کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز اسپتال میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کے لیے خصوصی نگہداشت وارڈ بھی قائم کر دیا ہے۔ یہ پاکستانی شہری گزشتہ ماہ مارچ سے افغانستان میں تھے۔

سرحد پار افغانستان سے طورخم کے راستے پاکستان واپس آنے والوں کو خصوصی گاڑیوں اور ایمبولینسز کے ذریعے لنڈی کوتل کے ڈگری کالج میں قائم قرنطینہ مرکز میں منتقل کیا جارہا ہے۔

پاکستانیوں کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرنے والے لنڈی کوتل کے ڈپٹی کمشنر عمران یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں اور سامان بردار گاڑیوں کی واپسی کے لیے طورخم کی گزرگاہ کھول دی گئی ہے۔

مزید پڑھیے

02:29 18.4.2020

کیا کرونا وائرس کے بعد بھی احباب کی محفلیں بے رونق رہیں گی

سلمان صوفی کے مطابق، بہت سے ملکوں میں صحت کا نظام بری طرح نظر انداز ہوا ہے۔ جہاں ڈاکٹر تک ضروری ساز و سامان سے محروم ہیں اور یوں وباؤں کا مقابلہ کرنے والا یہ ناگزیر طبقہ خود خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی متاثر ہوئی ہے۔

سلمان صوفی کا کہنا ہے کہ اگرچہ وبائیں کوئی امتیاز روا نہیں رکھتیں، لیکن پھر بھی ان کے اثرات مختلف طبقوں پر مختلف انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ یوں طبقاتی سطح پر بھی اس کے مختلف اثرات نظر آتے ہیں۔ ہم اب تک بہت سی چیزوں کو جن میں ہمارا کام اور روزگار بھی شامل ہے ’’فار گرانٹڈ‘‘ لیتے آئے ہیں اور اس بارے میں ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔

ہمارے اس سوال کے جواب میں کہ اس وبا کے خاتمے کے بعد وہ زندگی کے انداز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، سلمان صوفی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ'’اس وبا کا مقابلہ کرنے اور اس پر قابو پانے کے بعد انسانوں کی ذہنی اور جسمانی بہتری کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہوگی''۔

انھوں نے کہا کہ ''اس وبا کو عالمی سطح پر ایک ایسی یاد دہانی کے طور پر لینے کی ضرورت ہے کہ اپنے عوام کی فلاح اور خوشحالی کو ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ پھر محتاط رویے درکار ہونگے، کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ وائرس کے بعد کچھ ممالک میں سرحدوں پر سیکیورٹی اور سلامتی کو مستحکم کیا جائے اور یہ بھی خدشہ ہے کہ نسلی، مذہبی اور سماجی اقتصادی پس منظر کے حوالے سے مخصوص رویے پیدا ہو جائیں۔ ہمیں تیار رہنا ہوگا کہ اگر وائرس کے بعد ’’گریٹ ڈپریشن‘‘ کی صورت پیدا ہوتی ہے، تو ہم مثبت سوچ کے ساتھ اس کا مقابلہ کر سکیں اور اپنے وسائل کو اس انداز میں استعمال کریں کہ کوئی اکیلا اور تنہا نہ رہ جائے''۔

اور، اسی مثبت نوٹ پر کہ کہیں کوئی اکیلا تنہا اور پیچھے نہ رہ جائے، ہمیں زندگی کو اس انداز میں راہ دکھانا ہوگی، تاکہ گئی رونقیں اور سنسان محفلیں ایک بار پھر آباد ہو سکیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG