افغانستان میں مزید 27 افراد میں کرونا کی تصدیق
افغانستان کے محکمہ صحت کے حکام نے ملک میں کرونا سے مزید 27 افراد کے متاثر ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 933 ہو گئی ہے۔
افغان محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔ ملک میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 112 ہو گئی ہے۔
ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید تین افراد وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 33 ہو گئی ہے۔
افغان حکومت نے تاریخی دارالامان محل کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لیے آئسو لیشن وارڈ میں تبدیل کر دیا ہے۔
بین الاقوامی اور علاقائی فلائٹ آپریشن کی بندش میں 30 اپریل تک توسیع
پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بین الاقوامی اور علاقائی فلائٹ آپریشن کی بندش میں 30 اپریل تک توسیع کر دی ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 30 اپریل کی رات 11 بج کر 59 منٹ تک کے لیے باقاعدہ 'نوٹم' بھی جاری کر دیا ہے۔
البتہ، ریلیف پروازوں اور کارگو طیاروں جنہیں خصوصی اجازت دی گئی ہو، وہ آپریٹ ہوں گے۔ سول ایوی ایشن نے تمام ملکی اور غیر ملکی ایئر لائنوں کو نوٹم سے متعلق آگاہ کر دیا ہے۔
پی آئی اے کا برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال
پاکستان کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث فلائٹ آپریشن بند ہونے سے پاکستان اور برطانیہ میں پھنسے افراد کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی آئی اے 19 اپریل سے روزانہ لاہور اور اسلام آباد سے لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کے لیے پروازیں چلائے گا۔
پاکستان اور برطانیہ میں سیکڑوں مسافر کئی روز سے محصور تھے، اور دونوں ممالک کے مسافروں نے اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال رکھا تھا۔
وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان نے فلائٹ آپریشن جزوی طور پر بحال کرنے کی منظوری دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ فلائٹ آپریشن کی بحالی کے دوران حفاظتی اقدامات کیے جائیں گے۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایئر لائن نے اس ضمن میں خصوصی رعایت بھی متعارف کرا دی ہے۔
پاکستان سے برطانیہ کے لیے یک طرفہ کرایہ ایک لاکھ 10 ہزار روپے یا 525 برطانوی پاؤنڈ ہو گا۔ ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ پروازیں ہفتے سے بکنگ کے لیے دستیاب ہیں۔
کرونا وائرس: کیا 'پیسو ایمونائزیشن' کا طریقہ علاج کارگر ہو سکتا ہے؟
دنیا بھر کی جامعات اور ریسرچ ادارے ان دنوں انسانیت کو کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہے ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دوا کی تیاری میں مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
ایسے میں احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایسے متبادل طریقہ علاج پر بھی غور کیا جارہا ہے جس سے اس وبا کے اثرات کم کرنے کے ساتھ مریضوں کی جان بچائی جاسکے۔
اسی سلسلے میں چند روز قبل پاکستان کے شہر کراچی کی ڈاؤ میڈیکل یونیورسٹی ماہرین نے بھی یہ دعویٰ کیا ہے کہ 'پیسو ایمونائزیشن' طریقہ علاج کے ذریعے اس مرض کا علاج کیا جا سکتا ہے۔
اس طریقے کے تحت وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہونے والے مریض کے خون سے کچھ خلیات (اینٹی باڈیز) لے کر متاثرہ مریضوں کو لگایا جاتا ہے۔ جو وائرس کے متاثرہ مریض کے مدافعتی نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے کالج آف بائیو ٹیکنالوجی کے پرنسپل ڈاکٹر شوکت علی کا کہنا اس 'انٹراوینسلی ایڈمنسٹریبل ایمنوگلوبلین (آئی وی آئی جی) یا (نسوں کے ذریعے پہنچائی جانے والی اینٹی باڈیز) کا طریقہ استعمال کیا جاتا ہے۔