افغانستان سے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا عمل جاری
پاکستان اور افغانستان کی سرحدی گزر گاہ طورخم سے افغانستان میں کئی ہفتوں سے محصور پاکستانی شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
ہفتے کو مزید 500 پاکستانی شہری وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ پاک، افغان سرحد گزشتہ مہینے کے وسط میں کرونا کے باعث بند کر دی گئی تھی۔
ڈپٹی کمشنر خیبر محمود اسلم وزیر نے پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے عمل کی نگرانی کی۔
افغانستان میں پھنسے دیگر پاکستانیوں کی واپسی کا عمل سات روز بعد دوبارہ شروع ہو گا۔
طورخم پہنچنے والے پاکستانیوں کو لنڈی کوتل میں قائم قرنطینہ مرکز منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مراکز میں لوگوں کو 14 روز تک قیام کرنا ہو گا۔
خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر نے بتایا کہ تبلیٖغی جماعت سے تعلق رکھنے والے 345 افغان شہریوں کو بھی ہفتے کو واپس بھجوا دیا گیا ہے۔
اجمل وزیر نے بتایا کہ جمعے کو افغانستان میں پھنسے 170 ٹرک بھی پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ ان گاڑیوں کے ساتھ آنے والے 195 ڈرائیورز کو بھی 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
سندھ میں تاجروں کو 'ہوم ڈیلیوری' کے ذریعے مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت
پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیر مراد علی شاہ نے صوبے کے چھوٹے تاجروں کو اپنی مصنوعات لوگوں کے گھروں تک ڈیلیور کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔
سندھ حکومت نے کاروبار کھولنے کے حوالے سے 'روٹیشن پالیسی' اپنانے کی تجویز پر ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
کراچی میں تاجروں کے ساتھ ملاقات میں حکومت سندھ اور چھوٹے تاجروں کے درمیان (ایس او پیز) پر عمل درآمد کرنے کی صورت میں مصنوعات کی 'ہوم ڈیلیوری' پر اتفاق ہوا ہے۔
اسی طرح لاک ڈاون کے دوران چھوٹے تاجروں کو روٹیشن کی بنیاد پر دکان کھولنے کی تجویز بھی دے دی گئی ہے۔
وزیر اعلی سندھ نے صوبائی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز میں کہا ہے کہ ہفتے میں روٹیشن کی بنیاد پر مختلف شعبوں کی دکانیں کھولی جا سکتی ہیں۔ اس پر مزید غور کے لیے صوبائی وزرا سعید غنی، سید ناصر حسین شاہ، امتیاز شیخ پر مشتمل کمیٹی قائم کردی گئی ہے۔
کمیٹی تاجروں سے مل کر ایس او پیز بنائے گی۔ صوبائی حکومت کے مطابق ان سفارشات پر وفاقی حکومت سے بات کر کے 'ایس او پیز' کے تحت دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے گی۔
ترجمان وزیر اعلی سندھ کے مطابق تاجروں سے ملاقات میں وزیراعلیٰ سندھ نے سندھ ریونیو بورڈ کے ٹیکسز اور صوبائی ایکسائز ٹیکسز میں کاروباری لوگوں کو رعایت دینے کا بھی اعلان کیا یے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ جمعے کو صوبے بھر میں2217 ٹیسٹ کیے گئے جن میں میں کرونا کے 138 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
اس طرح صوبے میں مریضوں کی کل تعداد 2355 ہوگئی ہے۔ صوبے میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 48 ہو گئی ہے۔
سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی کے ضلع جنوبی اور شرقی کی گنجان آبادیوں میں کیسز بڑھنا تشویش کی بات ہے۔ اُن کے بقول ہم کچی آبادیوں میں ٹیسٹس بڑھا رہے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ کراچی کے گنجان آباد علاقوں کھارادر، لیاری اور بہار کالونی میں زیادہ کیسز آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام جب تک سماجی دوری نہیں اپنائیں گے، یہ مرض پھیلتا جائے گا۔
پاکستانی کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کہا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں کرونا وائرس کا کوئی مصدقہ کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
پاکستانی کشمیر میں اب تک کرونا کے باعث کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ محکمہ صحت کے مطابق اب تک مجموعی کیسز 48 ہیں۔ جن میں سے نو صحت یاب ہو چکے ہیں۔ یہاں کل 1229 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔
کرونا وائرس: ایران میں 'آرمی ڈے' پر میزائلوں کے بجائے طبی آلات کی نمائش
ایران میں جمعے کو 'آرمی ڈے' منایا گیا ہے۔ اس دوران سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کے بجائے جراثیم کش ادویات کا اسپرے کرنے والی گاڑیاں، موبائل اسپتال اور طبّی سامان لے جانے والی دیگر گاڑیاں گشت کرتی رہیں۔
'یوم فوج' کے موقع پر "ملک کے محافظ، صحت میں مددگار" کے عنوان سے ایک چھوٹی سی فوجی پریڈ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ پریڈ میں شریک کمانڈوز نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک پہنے ہوئے تھے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق پریڈ کے دوران ایران میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے فوج کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
یہ پریڈ عام طور پر ہونے والی فوجی پریڈ سے خاصی مختلف تھی۔ اس میں نہ تو اسلحے کی نمائش کی گئی اور نہ ہی جنگی طیاروں کی گھن گرج سنائی دی۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے اس موقع پر فوجیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہے کہ فوجیوں کی باقاعدہ پریڈ کی جا سکے۔ ہمارا مقابلہ جس دشمن سے ہے، وہ چھپا ہوا ہے اور فرنٹ لائن پر ڈاکٹر اور طبی عملہ کھڑا ہے۔