رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

18:10 19.4.2020

بھارت میں مودی حکومت مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے: عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت میں مودی حکومت کرونا وائرس سے متعلق پالیسی پر رد عمل سے بچنے کے لیے جان بوجھ کر پرتشدد انداز میں مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔

عمران خان نے بھارت میں حکومت کی لاک ڈاؤن کی پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ہزاروں افراد مختلف علاقوں میں پھنس گئے جب کہ لوگوں کو خوراک کی کمی کا بھی سامنا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نے بھارت حکومت کی پالیسی کو جرمنی میں نازی حکومت کی یہودیوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے تشبیہ دی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اب یہ اور واضح ہو گیا ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت ہندوؤں کی بالادستی کی سوچ کی حامل ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے مختلف طبقات پر وبا کے پھیلنے کی وجہ ہونے کا الزامات سامنے آئے تھے۔

بھارت میں اب 521 افراد وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 16ہزار سے زائد افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔

17:29 19.4.2020

افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے سات قرنطینہ مراکز

وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے کہا ہے کہ افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے لیے ضلع خیبر میں سات قرنطینہ مراکز قائم کیے گئے ہیں جس میں تقریبا 1500 افراد کی گنجائش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک افغانستان سے 713 افراد آئے ہیں جو کہ قرنطینہ مراکز میں ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں اجمل وزیر نے کہا کہ افغانستان سے واپس آنے والوں کو تمام تر سہولیات قرنطینہ مراکز میں فراہم کر رہے ہیں جب کہ جلال آباد قونصلیٹ میں بھی کیمپ آفس قائم کیا گیا ہے ہے۔

ان کے بقول افغانستان سے واپس آنے والے افراد کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں جن کے ٹیسٹ منفی ہوں گے ان کو اپنے علاقوں کی طرف روانہ کیا جائے گا اور جن کے ٹیسٹ مثبت ہوں گے وہ اپنا مقررہ وقت قرنطینہ مراکز میں گزاریں گے۔

16:26 19.4.2020

چین اگر کرونا وائرس پھیلنے کا ذمہ دار ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا: امریکہ

امریکہ کے صدر ڈونلد ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وبا پھیلنے سے متعلق اگر چین ذمہ دار ہے تو اسے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق وائٹ ہاؤس میں میڈیا بریفنگ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وبا کو چین میں روکا جا سکتا تھا جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر پر تنقید کی جا رہی ہے کہ چین نے وبا پر قابو پا لیا ہے جب کہ امریکہ میں اس سے مسلسل ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول اب پوری دنیا اس وبا سے تکلیف کا شکار ہے۔

امریکی صدر کا بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ماہرین وبا کو کنٹرول کرنے کے لیے دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان ایسے تعاون پر زور دے رہے ہیں جس کی ماضی میں مثال نہ ملتی ہو۔

مزید جانیے

15:54 19.4.2020

بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن

<span dir="RTL">بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے </span><span dir="RTL">24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔&nbsp; یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔ </span>
1/10 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔  یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔
مزید Show less
<span dir="RTL">بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔</span>
2/10 بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔
مزید Show less
<span dir="RTL">مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔</span>
3/10 مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔
مزید Show less
مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
4/10 مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
مزید Show less
لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
5/10 لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
مزید Show less
لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
6/10 لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
مزید Show less
<span dir="RTL">رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔</span>
7/10 رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
مزید Show less
<span dir="RTL">بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو </span><span dir="RTL">انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔</span>
8/10 بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مزید Show less
مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
9/10 مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
مزید Show less
<span dir="RTL">بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔</span>
10/10 بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
مزید Show less
Previous slide
Next slide

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG