ایکواڈور میں سڑکوں پر لاشیں کیوں پڑی ہیں؟
براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں سرکاری حکام کے مطابق پیر تک کرونا وائرس سے 474 اموات ہوئی تھیں۔ لیکن ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو گھر پر انتقال کر گئے۔
خبر ایجنسیوں نے ایسی متعدد تصاویر جاری ہیں جن میں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔
ایکواڈور کے صوبے گوایاس کی مقامی حکومت نے بتایا ہے کہ عام طور پر ایک مہینے میں دو ہزار اموات ہوتی ہیں، لیکن مارچ سے اب تک ساڑھے 14 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ مرنے والوں کی تدفین میں اتنی تاخیر ہو رہی ہے کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں کئی کئی دن گھر میں رکھنا پڑ رہی ہیں۔
متعدد ممالک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی
دنیا کے متعدد ممالک نے کرونا وائرس کے حوالے سے جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے لیے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
جرمنی میں حکام نے کچھ اسٹورز کو پیر سے کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم سماجی فاصلے کی پابندی برقرار رکھی جا رہی ہے۔
البانیہ میں بھی کاروبار کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ماہی گیری کے لیے کشتیوں اور فوڈ پراسیسنگ کے کاروبار بھی اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔
سری لنکا نے ملک کے دو تہائی حصے میں کرفیو اٹھا لیا ہے جب کہ باقی ایک تہائی حصے میں لاک ڈاؤن بدھ کو ختم کر دیا جائے گا۔
ناروے میں طلبہ اسکولوں میں آج سے واپس آ رہے ہیں جب کہ ڈنماک میں اسکول بدھ سے کھلیں گے۔
نیوزی لینڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھی 27 اپریل سے لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہا ہے۔
ویر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ کچھ پابندیاں دو ہفتے کے لیے اٹھائی جا رہی ہیں۔ جس کے بعد صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا۔
جنوبی کوریا کی حکومت نے بھی بعض پابندیوں کو نرم کرتے ہوئے محتاط رویہ اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نرم کرنے کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں مرحلہ وار طریقے سے نرم کی جائیں۔
افغانستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ
افغان وزارت صحت نے کہا ہے کہ افغانستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزارت صحت کے مطابق 110 نئے متاثرہ مریضوں میں 20 افغان ڈاکٹر اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کارکن بھی شامل ہیں۔
وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر واحد اللہ مایار نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ افغانستان میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی کل تعداد 1026 ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل 333 اور ہرات 334 مریضوں کے ساتھ سر فہرست ہیں۔ مزید تین اموات کے ساتھ اب تک کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 36 ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تک 135 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
لڑکیوں کے جنسی بنیادوں پر شدید متاثر ہونے کا خدشہ
اقوام متحدہ کے مہاجرین اور پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تنازعات کے باعث نقل مکانی کرنے والے بے وطن افراد میں شامل لڑکیوں کے کرونا وائرس سے جنسی بنیادوں پر شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق پناہ گزین، بے دخل اور بے وطن ہونے والی عورتوں اور لڑکیوں کو اس وبا کے دوران شدید خطرات لاحق ہیں۔
یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے خطرہ سب سے زیادہ ہونے کے باعث اس سلسلے میں بھر پور کوششوں کی ضرورت ہے کہ ان کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔
ادارے کے مطابق کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن، نقل و حرکت کی پابندیوں اور دیگر بندشوں کے باعث اس بات کا امکان ہے کہ خاندان لڑکیوں کو زندہ رہنے کے لیے جسم فروشی اور کم عمری کی شادیوں پر مجبور کرنے لگیں۔
مہاجرین اور پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے نے تمام ممالک کی حکومتوں کو اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے کہ وہ پناہ گزین عورتوں اور لڑکیوں کو زیادتی کے بڑھتے ہوئے خدشات سے بچانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں خصوصی خدمات کا شعبہ تشکیل دیا جائے جو صنفی بنیادوں پر ہونے والی کسی ممکنہ زیادتی پر فوری کارروائی کر سکے۔