- By علی عمران
پابندیوں میں نرمی سے پہلے کرونا وائرس کی وسیع تر ٹیسٹنگ ضروری
امریکہ سمیت کئی ممالک میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ اقتصادی سرگرمیوں کی بتدریج بحالی کے لیے زور دیا جا رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کچھ رہنما اصول جاری کیے جن کے تحت امریکی ریاستیں ایسی جگہوں پر جہاں کرونا وائرس کے کیسز پر قابو پایا جا چکا ہے، وہاں صحت عامہ کے مناسب اقدامات کے بعد آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن کی حفاظتی پابندیاں نرم کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں جب کہ کووڈ 19 کے لیے کوئی، دوا یا ویکسین دستیاب نہیں، معمول کی زندگی کی طرف جانے کے لیے دو عوامل بہت اہم ہوں گے، یعنی سوشل ڈسٹینسنگ کی پابندی اور بڑے پیمانے پر میں ٹیسٹنگ کرنے کی صلاحیت۔
تیل مفت اور گھر لے جانے کے پیسے الگ لیجیے
پوری دنیا میں لاک ڈاؤن ہے اور کاروبار کا پہیہ نہیں چل رہا۔ سعودی عرب اور روس مستقبل قریب میں پیداوار کم کرنے پر راضی ہو گئے ہیں لیکن اس وقت مارکیٹ میں اضافی تیل موجود ہے۔ اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟
اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ امریکہ میں تیل کی قیمت گرتے گرتے اس مقام پر آ گئی ہے کہ پیداواری کمپنیاں اپنے صارفین کو تیل وصول کرنے کے لیے پیسے دینے کو تیار ہیں۔ تاریخ میں پہلی بار تیل کا نرخ منفی ہو گیا ہے۔
پیداواری کمپنیوں کی گھبراہٹ بے وجہ نہیں ہے۔ امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کے مقامات بھرتے جا رہے ہیں اور اپریل کے آخر تک تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہوں گے۔ اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ تیل رکھنے کی جگہ نہیں ہو گی۔
کرونا وائرس سے پشاور میں اموات زیادہ کیوں؟
ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے زیادہ مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا اور صوبے میں سب سے زیادہ پشاور سے ہے۔
پیر کی شام تک حکام کے بقول ملک بھر میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 176 تھی، جب کہ ان میں 67 کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔
ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ رضوان کنڈی کے مطابق زیادہ تر ہلاکتوں کی وجہ عوام بالخصوص مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت اور ڈاکٹروں کے ساتھ عدم تعاون ہے۔ اسی طرح صوبے کی زیادہ تر آبادی کا انحصار بھی پشاور ہی کے اسپتالوں پر ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر اموات بھی پشاور ہی میں سامنے آتی ہیں۔
ایکواڈور میں سڑکوں پر لاشیں کیوں پڑی ہیں؟
براعظم جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں سرکاری حکام کے مطابق پیر تک کرونا وائرس سے 474 اموات ہوئی تھیں۔ لیکن ان میں وہ ہزاروں افراد شامل نہیں جو گھر پر انتقال کر گئے۔
خبر ایجنسیوں نے ایسی متعدد تصاویر جاری ہیں جن میں سفید چادروں میں لپٹی ہوئی لاشیں سڑکوں پر پڑی ہیں۔
ایکواڈور کے صوبے گوایاس کی مقامی حکومت نے بتایا ہے کہ عام طور پر ایک مہینے میں دو ہزار اموات ہوتی ہیں، لیکن مارچ سے اب تک ساڑھے 14 ہزار اموات ہو چکی ہیں۔ مرنے والوں کی تدفین میں اتنی تاخیر ہو رہی ہے کہ لوگوں کو اپنے پیاروں کی لاشیں کئی کئی دن گھر میں رکھنا پڑ رہی ہیں۔