پاکستان کے وزیر خارجہ سے افغان ہم منصب کا رابطہ، امن عمل پر تبادلہ خیال
افغانستان میں قیام امن، بین الافغان مذاکرات اور قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر اسلام آباد اور کابل نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ حنیف اتمر نے قیام امن کے لیے پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد اور کابل اقتصادی تعاون کے مشترکہ فریم ورک پر بھی کام کر رہے ہیں۔
حنیف اتمر نے یہ بات پیر کو پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلی فون پر رابطے کے بعد اپنی ٹوئٹس میں کہی۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ان کے افغان ہم منصب کے درمیان ہونے والی گفتگو میں کرونا وائرس سے نمٹنے کی مشترکہ کوششوں، امن و سلامتی اور اقتصادی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
عالمی بینک نے افغانستان کو دو کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کر دی
عالمی بینک نے کرونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے ہنگامی اقدامات کے لیے افغانستان کو دو کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کر دی ہے۔
عالمی بینک نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ فنڈ افغانستان کے 34 اضلاع میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اقدامات پر خرچ ہوں گے۔
عالمی بینک کے مطابق یہ رقم 10 کروڑ ڈالرز سے زائد کی اُس اعانت کا پہلا حصہ ہے جس کی منظوری عالمی بینک نے دو اپریل کو دی تھی۔
کرونا وائرس پاکستان کے کن علاقوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے؟
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض شہروں میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث کچھ علاقوں کو 'ہاٹ اسپاٹ' قرار دیا جا رہا ہے۔ یعنی وہ علاقے کرونا وائرس کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔
منگل کی صبح تک ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9200 سے زائد ہو چکی ہے جب کہ 192 ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پنجاب میں ہیں جہاں 4195 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ سندھ میں 2764، خیبر پختونخوا میں 1276، بلوچستان میں 465، اسلام آباد میں 185، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 50 اور گلگت بلتستان کے علاقوں میں 281 افراد کرونا وائرس کے مریض پائے گئے ہیں۔
کرونا وائرس کا شکار ہونے والے دو ہزار سے زائد افراد اس وبا کو شکست دے کر صحت یاب ہو چکے ہیں۔
دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ لاہور، راولپنڈی، گجرات، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ، کوئٹہ اور پشاور سمیت ملک کے کئی بڑے شہروں کو کرونا وائرس کے 'ہاٹ اسپاٹس' قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ میں ہلاکتیں 42 ہزار سے متجاوز، ٹرمپ کا امیگریشن پر عارضی پابندی کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر امیگریشن پر عارضی پابندی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب ملک میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے احتجاج میں بھی شدت آ گئی ہے۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ نظر نہ آنے والے دشمن کے حملوں اور امریکی شہریوں کی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے وہ امیگریشن پر عارضی پابندی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔
امریکہ کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں اب تک 42 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں اور متاثرہ مریضوں کی تعداد سات لاکھ 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کے باعث امریکی معیشت مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ملک بھر میں دو کروڑ سے زائد افراد بے روزگاری الاؤنس کے لیے درخواستیں جمع کرا چکے ہیں۔