ہالینڈ میں وائرس کا غصہ، سیلولر ریڈیو ٹاور کا کھمبا نذر آتش
ہالینڈ کے ایک بزنس پارک کی ایک سی سی ٹی وی فٹیج میں کالی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص کو ایک سیلولر ریڈیو ٹاور کی بنیاد میں ایک سفید ڈبے سے کوئی مواد گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد، اُس کھمبے سےشعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ شخص اپنی کار کی جانب جاتے اور رات کے تاریکی میں گم ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ وہ منظر ہے جسے حالیہ ہفتوں میں یورپ میں درجنوں بار دہرایا گیا ہے۔ شبہات پر مبنی سوچ کے حامی فائیو جی موبائل نیٹ ورک کو کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے اِن ٹاوروں پر حملے ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں غلط سوچ کو لاکھوں مرتبہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا چکا ہے۔ ان میں عام تاثر یہ ہے کہ کرونا وائرس فائیو جی ٹاوروں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔
صرف برطانیہ میں اس ماہ مواصلاتی ٹاوروں کو پچاس مرتبہ آگ لگائی گئی ہے۔ مواصلاتی انجینئروں کو کام کرتے ہوئے اَسی مرتبہ زد و کوب کیا گیا ہے۔ تقریباً سولہ ٹاوروں کو ہالینڈ میں آگ لگائی گئی ہے۔ آئرلینڈ، قبرص اور بیلجئم سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
امریکہ کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں یمن کی مدد کرے گا
ابھی تک یمن میں کرونا کا ایک کیس سامنے آیا ہے۔ لیکن، اس جنگ زدہ ملک کے کمزور طبی نظام کو دیکھتے ہوئے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہاں اس وبا نے زور پکڑا تو پھر بے حد خطرناک صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ پانچ سالہ خانہ جنگی نے اس ملک کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔
اس وقت یمن کی اسی فی صد آبادی کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی ضرورت ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہل کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''ہم یمن میں کرونا وائرس کے سلسلے میں انسدادی اقدامات کے لیے فنڈ کی فراہمی کے لیے راستہ تلاش کر رہے ہیں؛ اور امید ہے کہ اس کے لیے ہمیں متبادل ذرائع مل جائیں گے''۔
اہل کار نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کتنی فنڈنگ کرے گا۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ہم با اعتماد صحت کے اداروں کی تلاش میں ہیں، جن کے ذریعے یہ امداد یمن تک پہنچائی جا سکے۔
جمعرات کو اقوام متحدہ کے امدادی شعبے کے سربراہ مارک لوکاک نے سلامتی کونسل کو بتایا تھا کہ وبائی امراض کے ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ یمن میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل سکتا ہے۔
کاروبار کھولنے میں جلدی کی تو زیادہ نقصان ہوگا، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے ایک اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ جو ممالک جلد لاک ڈاؤن میں نرمی کریں گے، وہ کرونا وائرس کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ مول لیں گے۔
مغربی بحر الکاہل کے لیے ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر ڈاکٹر تاکیشی کاسائی نے آن لائن نیوز کانفرنس میں کہا کہ یہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا وقت نہیں ہے۔ اس کے بجائے ہمیں کچھ عرصے تک خود کو نئے طرز زندگی کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ مشورہ ایک ایسے موقع پر دیا ہے جب امریکہ کی کئی ریاستوں میں کاروبار کھولنے کے لیے مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ایشیا اور یورپ کی کئی حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنے ایک وفد کو یورپی ملک بیلارس بھی بھیجا تاکہ وہ اس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر زور دے کہ وہ اپنے ملک میں لاک ڈاؤن کریں۔ بیلارس کی حکومت نے اپنے شہریوں کو سماجی فاصلے کی ہدایت تک نہیں کی۔ صدر لوکاشینکو نے ماننے کے بجائے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او والے ہم سے محبت نہیں کرتے۔ یہ بین الاقوامی ادارہ ہے جس میں بہت سی سیاست ہوتی ہے۔
لاطینی امریکہ میں خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ
لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر جاری لاک ڈاؤن کے دوران خواتین پر تشدد کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ گھریلو تشدد کی شکایات درج کرانے کے لیے قائم ہیلپ لائنز پر آنے والی کالز میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
'اے ایف پی' کے مطابق ارجن ٹینا کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے 20 مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کیا تھا۔ لاک ڈاؤن کے ابتدائی 20 روز کے دوران 18 خواتین اپنے شوہر یا سابق شوہر کے ہاتھوں قتل ہوئی ہیں۔
ارجن ٹینا میں خواتین کی مدد کے لیے قائم ہیلپ لائن پر آنے والی کالز میں بھی 40 فی صد اضافہ ہو گیا ہے۔
ایسی ہی صورتِ حال میکسیکو، برازیل، چلی اور دیگر ممالک میں بھی ہے۔ جہاں انتظامیہ کی طرف سے گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات تو کیے جا رہے ہیں۔ لیکن ان اقدامات کے مثبت نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔