پاکستان میں ہلاکتیں 200 سے متجاوز
دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار نیشنل اسپیلنگ بی منسوخ
امریکہ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار 'نیشنل اسپیلنگ بی' مقابلہ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے نئی تاریخ کا اعلان کرنا ممکن نہیں۔
اس کا انعقاد 24 سے 29 مئی تک دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے ملحق نیشنل ریزورٹ اینڈ کنونشن سینٹر نیشنل ہاربر میں ہونا تھا۔
اس سے پہلے مارچ میں منتظمین نے مقابلہ ملتوی کرنے کا اعلان کیا تھا جس سے امید ہوئی تھی کہ سال کے آخر میں اسے منعقد کیا جائے گا۔ لیکن اب منتظمین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے اس سال مقابلے کی نئی تاریخ مقرر کرنا ممکن نظر نہیں آرہا۔
امریکہ میں مریضوں کی تعداد 8 لاکھ، اموات 45 ہزار
ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر کرونا وائرس کے حملے بدستور جاری ہیں جن سے مریضوں کی تعداد 8 لاکھ اور اموات کی تعداد 45 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ برطانیہ اور سویڈن میں ایک بار پھر ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 210 ممالک اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز ڈھائی ملین یعنی 25 لاکھ اور اموات ایک لاکھ 77 ہزار سے بھی زیادہ ہوگئی ہیں۔ ان میں سے ڈیڑھ لاکھ ہلاکتوں اور 20 لاکھ مریضوں کا تعلق شمالی امریکہ اور یورپ سے ہے۔
24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 828، اٹلی میں 534، فرانس میں 531، اسپین میں 430، سویڈن میں 185، جرمنی میں 171، بیلجیم میں 170، نیدرلینڈز میں 165، برازیل میں 154، کینیڈا میں 141 اور ترکی میں 119 افراد ہلاک ہوئے۔ ایران میں 88، بھارت میں 53 اور روس میں 51 مریض دم توڑ گئے۔
ہالینڈ میں وائرس کا غصہ، سیلولر ریڈیو ٹاور کا کھمبا نذر آتش
ہالینڈ کے ایک بزنس پارک کی ایک سی سی ٹی وی فٹیج میں کالی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص کو ایک سیلولر ریڈیو ٹاور کی بنیاد میں ایک سفید ڈبے سے کوئی مواد گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد، اُس کھمبے سےشعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ شخص اپنی کار کی جانب جاتے اور رات کے تاریکی میں گم ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ وہ منظر ہے جسے حالیہ ہفتوں میں یورپ میں درجنوں بار دہرایا گیا ہے۔ شبہات پر مبنی سوچ کے حامی فائیو جی موبائل نیٹ ورک کو کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے اِن ٹاوروں پر حملے ہو رہے ہیں۔
کرونا وائرس اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں غلط سوچ کو لاکھوں مرتبہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا چکا ہے۔ ان میں عام تاثر یہ ہے کہ کرونا وائرس فائیو جی ٹاوروں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔
صرف برطانیہ میں اس ماہ مواصلاتی ٹاوروں کو پچاس مرتبہ آگ لگائی گئی ہے۔ مواصلاتی انجینئروں کو کام کرتے ہوئے اَسی مرتبہ زد و کوب کیا گیا ہے۔ تقریباً سولہ ٹاوروں کو ہالینڈ میں آگ لگائی گئی ہے۔ آئرلینڈ، قبرص اور بیلجئم سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔