پارلیمنٹ ہاؤس: تین ملازمین کا ٹیسٹ مثبت، بیشتر کو آنے سے روک دیا گیا ہے
دنیا کے کئی ممالک میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے قانون سازی کی جا رہی ہے لیکن پاکستان کی پارلیمنٹ میں اس حوالے سے تاحال کوئی سرگرمی سامنے نہیں آئی۔
پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) اور ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے ارکان کی مجموعی تعداد 446 ارکان ہے۔ تاہم کسی بھی رکن کی جانب سے قانون سازی کا کوئی بل سامنے نہیں آیا البتہ حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے ریکوزیشن جمع کرائی ہے۔
قانون کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ کو ایک سال میں 130 دن کا سیشن مکمل کرنا ہوتا ہے۔ سینیٹ کا 12 مارچ کے بعد سے اب تک کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ قومی اسمبلی کے بھی ابھی صرف 100 دن مکمل ہوئے ہیں اور جولائی تک انہیں بھی 130 دن مکمل کرنے ہیں۔
اس بارے میں سینئر صحافی اور پارلیمانی رپورٹرز ایسویسی ایشن کے سابق صدر صدیق ساجد کہتے ہیں کہ اس وقت ارکان پارلیمنٹ، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ خود خوف کا شکار ہیں۔
ان کے بقول حکومت کی طرف سے اعلان نہیں کیا گیا لیکن یہ حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر کام کرنے والے تین ملازمین کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد بیشتر ملازمین کو پارلیمنٹ آنے سے روک دیا گیا ہے۔
قانونی تارکینِ وطن کے امریکہ داخلے پر 60 روز کی پابندی عائد
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےنقل مکانی کر کے امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے خواہش مند افراد کی آمد پر 60 روز کی پابندی عائد کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امیگریشن پر عائد کردہ نئی پابندی کا اطلاق صرف اُن افراد پر ہوگا جو امریکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کرونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے امریکیوں کو دوبارہ ملازمت حاصل کرنے کے سلسلے میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس پابندی کو وہ ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس پر وہ امکانی طور پر بدھ کے روز دستخط کریں گے۔
- By زبیر ڈار
بھارتی کشمیر میں رمضان میں راشن فراہمی کی تیاری
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومت نے رمضان میں لوگوں کو خوراک پہنچانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 30 ہزار کے قریب امدادی سامان کے پیکٹ بنائے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق امدادی سامان رمضان میں لوگوں کو پہنچایا جائے گا۔
- By سہیل انجم
بھارت کے بڑے شہروں میں صحافی تیزی سے وبا سے متاثر ہونے لگے
بھارت میں فیلڈ میں کام کرنے والے صحافی بھی اب کروناوائرس کے شکار ہونے لگے ہیں۔ ممبئی کے 53 اور چنئی کے 25 صحافیوں کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ دونوں مقامات کے متاثرہ صحافیوں کی اکثریت نیوز چینلز سے تعلق رکھتی ہے۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے 167 صحافیوں کا کرونا وائرس ٹیسٹ کیا گیا تھا۔
ممبئی کے سینئر صحافی اشوک باگریا کے مطابق ایک نیوز چینل کی پوری ٹیم کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی کے کےمطابق الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا دونوں سے وابستہ رپورٹرز، فوٹوگرافرز اور کیمرا پرسنز کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ وبا سے متاثر تمام صحافیوں کو گورے گاؤں کے ایک اسپتال میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
تمل ناڈو محکمہ صحت کے مطابق چنئی میں ایک نیوز چینل کے 90 صحافیوں کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا تھا جن میں سے 25 صحافیوں کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
دہلی حکومت کی جانب سے بھی صحافیوں کا مفت کرونا ٹیسٹ شروع کر دیا گیا ہے۔