دبئی میں تارکین وطن کی تنہائی میں موت
متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ریاستوں میں کام کرنے والے تارکین وطن کرونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد تنہائی میں انتقال کررہے ہیں۔
اگر کوئی شخص کرونا وائرس کے باعث انتقال کر جائے تو اس کی میت اس کے گھر والوں تک نہیں پہنچائی جا سکتی۔ سرحدوں کی بندش و فلائٹ آپریشن کی معطلی کے سبب اس کے لواحقین بھی آخری دیدار کے لیے نہیں آ سکتے۔ لہٰذا عملے کے چند ارکان ہی ان کی آخری رسومات ادا کرتے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق کچھ دن قبل متحدہ عرب امارات میں مقیم ایک بھارتی شہری کرونا وائرس سے ہلاک ہو گیا تھا۔ انتظامیہ نے اس کی میت کو دوستوں یا رشتے داروں کے انتظار میں رکھا کہ شاید آخری دیدار کے لیے اس کا کوئی عزیز آ جائے۔
لیکن کئی گھنٹے انتظار کے باوجود بھی کوئی اسے دیکھنے نہیں آیا تو بلآخر حفاظتی سوٹ میں ملبوس عملے نے ہی آخری رسومات ادا کیں۔ عملے نے میت کو سفید رنگ کے پلاسٹک بیگ میں لپیٹ کر ایک برقی بھٹی کے حوالے کر دیا تھا جس نے اسے لمحوں میں ہی راکھ میں بدل دیا۔
دبئی میں ہندو مت کے پیروکار بھارتی شہریوں کی آخری رسومات صحرائی علاقے میں واقع ایک شمشان گھاٹ میں ادا کی جا رہی ہیں۔
خلیجی ممالک میں اب تک کرونا وائرس کے 26 ہزار 600 سے زائد مریض سامنے آ چکے ہیں اور اس وبا سے 166 اموات ہوئی ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ غیر ملکی ہیں اور بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال اور فلپائن سمیت مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
سینئر ڈاکٹروں کا پاکستان میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کا مطالبہ
پاکستان کے سینئر ڈاکٹروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بجائے اسے مزید سخت کیا جائے۔
کراچی پریس کلب میں انڈس اسپتال کے سربراہ ڈاکٹر عبدالباری، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے قیصر سجاد، عاطف حفیظ اور دیگر کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملک میں 26 فروری کو کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سندھ میں جزوی لاک ڈاؤن 18 مارچ سے کیا گیا لیکن 14 اپریل کو لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو کیسز کی تعداد بڑھنا شروع ہوگئی اور ڈاکٹرز سمیت پیرا میڈیکل عملہ بھی کرونا کا شکار ہونے لگا۔ صرف سندھ میں اب تک 162 ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کرونا کا سے متاثر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پانچ دن میں مریضوں میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ یہ خام خیالی ہے کہ ملک میں یہ مرض نہیں ہے۔ ماہرین سمجھتے ہیں کہ کیسز کی تعداد مزید بڑھے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب کہیں سنجیدہ لاک ڈاؤن نظر نہیں آ رہا۔ ہر جگہ لوگوں کا رش ہے۔ ہم صرف مساجد ہی نہیں ہر جگہ رش نہ لگانے پر زور دے رہے ہیں۔ لوگ زیادہ جمع ہوں گے تو وبا تیزی سے پھیلے گی۔
امریکی ایوان نمائندگان: ووٹ کے لیے دوسرے رکن کو نامزد کرنے کی قرارداد
امریکہ کے ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی ایک ایسی قرار داد پر بحث کر رہی ہے جس میں تجویز دی گئی ہے کہ قانون سازوں کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنا ووٹ دینے کے لیے کسی دوسرے رکن کو نامزد کر سکیں اور کمیٹیوں کو اجازت دی جائے کہ وہ آن لائن میٹنگز کر سکیں۔
اس قرارداد کا مقصد کرونا وائرس جیسی وبا کی صورت میں ایوان کے معمولات میں لچک پیدا کرنا ہے۔ خیال رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بڑے اجتماعات اور اجلاسوں سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
قرار داد کے مطابق ایوان نمائندگان کے اسپیکر کو پہلے یہ اعلان کرنا ہو گا کہ وبا کی وجہ سے ہنگامی صورت حال ہے جس کا اطلاق 40 روز تک ہو گا۔
قرار داد میں کہا گیا ہے کہ اس عرصے کے دوران یہ ممکن ہے کہ کوئی بھی رکن ایک مراسلے میں تحریر کرے کہ ان کی جگہ ایک دوسرے رکن ووٹ دیں گے جس کے لیے مخصوص ہدایات جاری کی جائیں گی۔ اس نوعیت کی نامزدگیوں کو کسی بھی وقت تبدیل یا ختم کیا جا سکے گا۔ اور اس کی فہرست کلرک کے پاس ہو گی۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ مختلف کمیٹیوں کے اجلاس کے لیے ایوان اور سینیٹ کے ارکان باہر رہتے ہوئے شریک ہو سکیں گے اور قانون ساز ووٹ دے سکیں گے۔
عام فلو کے سیزن میں کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ
امریکہ میں بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے ادارے کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ اس سال عام فلو کے سیزن میں کرونا وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ ہے ۔
رابرٹ ریڈ فیلڈ کے مطابق اس وقت اس سے نمٹنا زیادہ مشکل ہو گا۔
خیال رہے کہ امریکہ اور چین کرونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں تحقیقات کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین اگلے سال کے آغاز پر ہی دستیاب ہو سکے گی۔