پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں کو سخت سزائیں دینے کے لیے آرڈیننس
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے ماہ رمضان اور کرونا وائرس کے پیشِ نظر ذخیرہ اندوزی روکنے کے لیے آرڈیننس نافذ کر دیا ہے۔
پنجاب کے وزیر صنعت میاں اسلم اقبال نے لاہور میں نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ آرڈیننس کے اطلاق سے ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کو تین سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس کا اطلاق چائے، چینی، پاوڈر ملک ذخیرہ کرنے پر ہو گا۔ بچوں کا دودھ، کھانے کا آئل، فروٹ جوسز، نمک، آلو ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔
پیاز، دالیں، مچھلی، بڑا اور چھوٹا گوشت، انڈے بھی ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
گڑ، مصالحہ جات، سبزیاں، کیروسین آئل، ماچس، کوئلہ، کیمیکل فرٹیلائزر ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی ہو گی۔
کرونا وائرس جلد ختم ہونے والا نہیں، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ کرونا وائرس جلد ختم ہونے والا نہیں ہے اور بہت سے ملک اس کے اثرات کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس گیبریاسس نے بدھ کو متنبہ کیا ہے کہ عالمی دنیا کو ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کرونا وائرس کی وبا اب تک ہمارے ساتھ ہے اور یہ طویل عرصے تک ساتھ رہ سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ صورتِ حال میں کوئی غلطی نہیں کرنی۔ بیشتر ملک کرونا وائرس کے اثرات کے ابتدائی مرحلے میں ہیں اور وہ ممالک جہاں کیسز کی تعداد میں کمی آ چکی ہے وہاں یہ وبا دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔
یاد رہے کہ کرونا وائرس سے دنیا بھر میں ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد ہلاک اور 26 لاکھ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔
دنیا کے کئی ملکوں میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور لاک ڈاؤن سمیت مختلف قسم کی پابندیاں عائد ہیں۔ بعض ملکوں نے ہلاکتوں اور کیسز کی تعداد میں کمی کے بعد عائد کردہ پابندیوں میں نرمی کر دی ہے۔