افغانستان میں کرونا کے مزید 50 کیسز رپورٹ
افغانستان کی وزارتِ صحت نے سات صوبوں میں کرونا وائرس کے مزید 50 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد افغانستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی کل تعداد 1226 ہو گئی ہے۔
کابل میں چین کے سفیر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے افغان وزیر صحت ڈاکٹر فیروزالدین فیروز نے کہا کہ افغانستان میں احتیاطی اقدامات معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
دریں اثنا افغان صدراشرف غنی نے کابل میں مقیم غیر ملکی سفیروں اور امداد فراہم کرنے والے ملکوں کے نمائندوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے افغان حکومت کے کووڈ-19 پروگرام سے نمٹنے کے پروگرام پر تبادلہ خیال کیا۔
افغان صدر کا کہنا ہے کہ حکومت کا کووڈ-19 پروگرام پانچ مرحلوں پر مشتمل ہے۔ جس میں فوڈ سیکیورٹی، صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری، کرونا وبا کے اقتصادی اثرات کو کم کرنا اور علاقائی تعاون کا تحفظ کرنا ہے۔ اس میں خاص طور پر وسطی ایشیا کے ملکوں کے علاوہ پاکستان اور بھارت سے تعاون شامل ہے۔
پاکستان میں ڈاکٹرز سمیت طبی عملے کے 253 افراد کرونا کا شکار ہوئے
پاکستان میں وزارتِ صحت نے کرونا وبا کی وجہ سے اب تک متاثر ہونے والے ہیلتھ ورکرز کی تفصیلات جاری کردی ہیں۔
ملک بھر میں اب تک 124 ڈاکٹرز، 39 نرسز اور 90 ہیلتھ کیئر ورکرز کرونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ اب تک تین ہیلتھ ورکرز ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان ہیلتھ ورکرز میں سے 92 آئسولیشن اور 125 اسپتالوں میں زیرِ علاج جب کہ 33 مریضوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں سب سے زیادہ 53 ڈاکٹرز، 12 نرسز اور 18 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ جن میں سے اس وقت 14 افراد آئسولیشن،61 اسپتالوں میں زیرِ علاج آٹھ کو ڈسچارج کر دیا گیا۔
سندھ میں 19 ڈاکٹرز، 15 نرسز اور 22 دیگر ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا میں مبتلا ہوئے۔ ان میں سے 41 مریض زیر علاج جب کہ 15 کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ایک ڈاکٹر تین ہیلتھ ورکرز میں کرونا کی تشخیص ہوئی اور چاروں ہیلتھ پروفیشنلز کو صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کر دیا گیا۔
بلوچستان میں 24 ڈاکٹرز، ایک نرس اور سات ہیلتھ ورکرز میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جن میں سے 27 افراد آئسولیشن، چار اسپتال جب کہ ایک مریض ڈسچارج ہوا ہے۔
گلگت بلتستان میں ایک ڈاکٹر اور 16 ہیلتھ ورکرز میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ان میں سے 14 مریض اسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں۔ ایک کو ڈسچارج کیا گیا اور دو جان کی بازی ہار گئے۔
اسلام آباد میں 12 ڈاکٹرز، سات نرسز اور 12 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا سے متاثر ہوئے۔ جن میں سے 26 مریض آئسولیشن، ایک اسپتال، تین ڈسچارج جب کہ ایک جان کی بازی ہار گیا۔
خیبر پختونخوا میں 14 ڈاکٹرز، چار نرسز اور 12 ہیلتھ کیئر اسٹاف کرونا سے متاثر ہوئے۔ جن میں سے 25 مریض آئسولیشن، چار اسپتالوں میں زیرِ علاج جبکہ ایک کو ڈسچارج کیا گیا۔
پاکستانی کشمیر میں لاک ڈاؤن میں چار ہفتوں کی توسیع
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن میں مزید چار ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔
پاکستانی کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے کہا کہ اس دوران پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے گی۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہفتے میں دو دن جمعے اور منگل کو مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے گا۔ اس دوران شادی بیاہ اور ہر قسم کے اجتماع پر پابندی برقرار رہے گی۔
راجہ فاروق حیدر کے بقول دکانیں اور مارکیٹس صبح آٹھ بجے سے شام چار بجے تک کھولنے کی اجازت ہو گی۔ بزرگوں اور بچوں کے مارکیٹس میں آنے پر مکمل پابندی ہو گی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے خلاف موقع پر کارروائی کی جائے گی۔
بھارت: کیا لاک ڈاؤن کی آڑ میں مسلماںوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں؟
بھارت کی پولیس نے دہلی فسادات کے الزامات پر سیکڑوں ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جن میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے وہ طلبہ بھی شامل ہیں جو متنازع شہریت ترمیمی بل کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق دہلی فسادات کے سلسلے میں اب تک 802 ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
کرائم برانچ نے 182 جب کہ شمال مشرقی دہلی کی پولیس نے 620 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔
دہلی فسادات کے الزام میں پولیس نے جن ملزمان کو گرفتار کیا ہے اُن پر مقدمات قائم کرتے ہوئے بغاوت، قتل، فسادات اور مذہب کی بنیاد پر منافرت پھیلانے کے الزامات کی دفعات شامل کی ہیں۔
پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے یو این) کے بعض ان طلبہ کو بھی گرفتار کیا ہے جو شہریت ترمیمی بل کے خلاف تحریک میں شامل تھے۔ ان طلبہ کے خلاف دہشت گردی کے قانون (یو اے پی اے ) کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے اُن پر تشدد کے لیے اُکسانے کا الزام بھی ہے۔
پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم میران حیدر اور ایک سیاسی جماعت راشٹریہ جنتا دل کی طلبہ تنظیم کی رہنما صفورہ زرگر کو گرفتار کیا ہے۔