رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:28 24.4.2020

لاک ڈاؤن سے کوئی خوش تو کوئی پریشان

کرونا وائرس کے سدِباب کے لیے نافذ کردہ لاک ڈاؤن کے باعث ریستوران بند ہیں۔ ان ریستورانوں میں خدمات فراہم کرنے والا عملہ مشکلات کا شکار ہے۔ دوسری طرف ریستوران بند ہونے کی وجہ سے گھروں میں کھانا ڈلیور کرنے والے عملے کا کام بڑھ گیا ہے۔ ایسے افراد کے لیے کرونا وائرس کی آفت رحمت ثابت ہو رہی ہے۔

لاک ڈاؤن سے کوئی خوش تو کوئی پریشان
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:31 0:00

11:27 24.4.2020

لاک ڈاؤن: کسی کے لیے زحمت اور کسی کے لیے رحمت کا باعث

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کے پیشِ نظر جاری لاک ڈاؤن میں ریستوران انڈسٹری سے وابستہ عملے کے لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔

پاکستان میں ریستورانوں کی نمائندہ تنظیم 'آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن' کے کنوینئر اطہر چاؤلہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان بھر میں قائم ایک لاکھ سے زائد ریستوران بند ہیں۔ ان ریستورانوں میں کام کرنے والے تقریباً 22 لاکھ افراد مشکلات کا شکار ہیں۔

لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ایک طرف ریستوران بند ہیں۔ وہیں گھروں میں کھانا ڈیلیور کرنے کا کام بڑھ رہا ہے۔ کھانا ڈیلیور کرنے والی ایک معروف آن لائن سروس 'فوڈ پانڈا' سے منسلک شہریار نے بتایا کہ عام حالات کی نسبت لاک ڈاؤن میں ان کا کام زیادہ اچھا چل رہا ہے۔

مزید پڑھیے

11:23 24.4.2020

پاکستان میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ

04:53 24.4.2020

لاک ڈاؤن سے ڈیڑھ ارب طالب علم متاثر ہوئے، یونیسکو

یونیسکو کی عہدے دار نے بتایا ہے کہ دنیا بھر کے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے طالب علموں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زیادہ ہے جن میں تقریباً 74 کروڑ لڑکیاں ہیں۔ ان میں سے گیارہ کروڑ سے زیادہ لڑکیوں کا تعلق دنیا کے پس ماندہ ملکوں سے ہے، جہاں لڑکیوں کا اسکول جانا ویسے ہی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

گیانینی نے بتایا کہ سب سے زیادہ نقصان ان لڑکیوں کو اٹھانا پڑے گا جو پناہ گزیں کیمپوں میں رہ رہی ہیں اور ان کے سکول بھی کیمپوں کے اندر ہیں۔ انہیں دوبارہ سکول بھیجنا مزید مشکل ہو سکتا ہے اور عالمی سطح پر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے گزشتہ 20 سال میں جو کامیابیاں حاصل کی گئیں ہیں، انہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بے گھر افراد میں تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں کی تعداد لڑکوں کے مقابلے میں نصف ہے۔

انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس وقت ہم کرونا وائرس کے دنیا پر اقتصادی اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خاص طور پر ان ملکوں میں جہاں خواتین کو بہت کم سماجی تحفظ حاصل ہے۔ کرونا وائرس سے معاشی سرگرمیاں اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کی سب سے زیادہ قیمت خواتین کو ادا کرنی پڑے گی، کیونکہ لڑکیوں کی تعلیم کو سب سے زیادہ غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔

یونیسکو کے چھ نکاتی ایجنڈے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ٹیچرز اور کمیونیٹنز کو قریب لانا، فاصلاتی طریقہ تعلیم کا فروغ، تحفظ فراہم کرنے کی سروسز کو بڑھاوا دینا اور نوجوانوں کو رابطے میں لانا ہے۔

گیانینی کا کہنا تھا کہ اگرچہ کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش عارضی ہے لیکن پڑھانے کا دورانیہ کم ہونے کا اثر پڑھائی سے حاصل ہونے والی کامیابیوں پر پڑتا ہے۔ جب اسکول بند ہوتے ہیں تو تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسکولوں کی بندش کئی اور مسائل کو بھی جنم دیتی ہے جن میں معاشی پیداوار میں کمی بطور خاص قابل ذکر ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG