رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

16:52 25.4.2020

کرونا وائرس کے باعث نواز شریف کے علاج میں تاخیر

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے باعث سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سرجری ملتوی کر دی گئی ہے۔

ایک ٹوئٹ میں ڈاکٹر عدنان کا کہنا ہے کہ کرونا کے پھیلاؤ کے باعث برطانیہ کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں متعدد آپریشنز ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

13:41 25.4.2020

کرونا وائرس سے خیبرپختونخوا میں سینئر ڈاکٹر ہلاک

پاکستان کے صوبے خیبرپختوںخوا کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے آئسو لیشن وارڈ میں زیرِ علاج پروفیسر ڈاکٹر جاوید انور کرونا کے باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔

پروفیسر جاوید میں 15 دن قبل کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ جس کے بعد حالت بگڑنے پر اُنہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

پروفیسر جاوید اسپتال کے شعبہ ناک، کان، گلا میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔

02:33 25.4.2020

امریکہ میں ہلاکتیں 51 ہزار سے بڑھ گئیں


کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں مریضوں کی تعداد 9 لاکھ ہوگئی ہے، جبکہ اموات کی تعداد 51 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ اٹلی، اسپین اور فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد کم جبکہ کینیڈا اور آئرلینڈ میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کی طرح برطانیہ میں وبا کا عروج برقرار ہے۔

جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، جمعے کو 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 28 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ 95 ہزار تک پہنچ گئی۔

24 گھنٹوں کے دوران برطانیہ میں 768، اٹلی میں 420، فرانس میں 389، اسپین میں 367، آئرلینڈ میں 220، بیلجیم میں 189، کینیڈا میں 147، سویڈن میں 131، نیدرلینڈز میں 112 اور ترکی میں 109 مریض دم توڑ گئے۔ میکسیکو میں 99، برازیل میں 94، ایران میں 93، جرمنی میں 78، پرو میں 62، روس میں 60، بھارت میں 59 افراد ہلاک ہوئے۔

اٹلی میں اموات کی مجموعی تعداد 25969، اسپین میں 22524، فرانس میں 22245، برطانیہ میں 19506، بیلجیم میں 6679، جرمنی میں 5653، ایران میں 5574، چین میں 4632 اور نیدرلینڈز میں 4289 ہے۔ برازیل میں 3407، ترکی میں 2600، کینیڈا میں 2294، سویڈن میں 2152، سوئزرلینڈ میں 1578، میکسیکو میں 1069 اور آئرلینڈ میں 1014 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکہ میں جمعہ کی سہہ پہر تک 900 اموات ہوچکی تھیں، جس کے بعد کل تعداد 51100 سے زیادہ ہوگئی تھی۔ اب تک 49 لاکھ شہریوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہوچکے تھے جن میں 9 لاکھ 6 ہزار مثبت آئے ہیں۔

امریکہ کی 10 ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ نیویارک میں 21283، نیوجرسی میں 5428، مشی گن میں 3085، میساچوسیٹس میں 2360، الی نوئے میں 1688، پینسلوانیا میں 1685، کنیٹی کٹ میں 1639، لوزیانا میں 1601، کیلی فورنیا میں 1534 اور فلوریڈا میں 1012 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

نیویارک میں 2 لاکھ 76 ہزار اور نیوجرسی میں پورے ایک لاکھ کیسز سامنے آچکے ہیں۔ سب سے کم کیسز الاسکا میں 337 اور سب سے کم 7 اموات وایومنگ میں ہوئی ہیں۔

02:26 25.4.2020

انٹرنیٹ تک رسائی میں کمی سے کرونا وائرس سے مقابلے کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں

کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے جہاں دنیا کے صحت عامہ اور اقتصادی نظاموں کو ایک کڑے امتحان میں ڈال رکھا ہے وہاں اس وبا نے انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہونے میں عدم مساوات کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔

ماہرین کے مطابق، انٹرنیٹ کی رسائی میں یہ تقسیم، جسے عام طور پے ڈیجیٹل ڈیوائڈ کہا جاتا ہے، دنیا کے بہت سے لوگوں کیلئے معلومات کی فراہمی، اقتصادی مواقع، صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق، کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے اس دور میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 55 فیصد صد لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 87 فیصد ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں 47 فیصد اور دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں محض 19 فیصد لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے ماہر، طارق ملک، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ادارے کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل تقسیم دنیا کے لیے اس بحران میں ایک بڑا لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''اگر ہم پاکستان کی صورتحال کو دیکھیں تو حکومت کا احساس پروگرام ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن، معاشی مسائل میں گھرے ہوئے بہت سارے پاکستانی موبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے اس پروگرام سے جلد مستفید نہیں ہو سکتے۔ اور وہ صحت اور معاشی دشواریوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکیں گے''۔

طارق ملک جو پاکستان کے قومی ادارے، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے سابقہ چیئرمین ہیں، کہتے ہیں کہ اس بحران کو ایک موقع سمجھ کر اس حکومت کو اور آنے والی حکومتوں کو ایسے مربوط نظام اور لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو بحران کی صورتحال میں لوگوں کو جلد از جلد ریلیف مہیا کر سکے اور ان کی مناسب دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔

ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس کے بحران سے بہت سے علاقوں میں اسکول مکمل طور پر بند ہیں۔ ایسے میں وہ طلبا و طالبات جنہیں انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر نہیں اپنا قیمتی وقت تعلیم کے حصول لئے صرف نہیں کرسکیں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG