بھارت: قرنطینہ میں موجود خاتون اجتماعی زیادتی کا شکار
بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک اسکول میں قائم قرنطینہ میں ایک مزدور خاتون مبینہ طور پر تین افراد کی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بن گئی۔
ایک پولیس عہدیدار نے اتوار کو بتایا کہ یومیہ اجرت پر مزدوری کرنے والی خاتون گھر کا راستہ بھول گئی تھی جس پر اسے پولیس اسٹیشن میں پناہ لینا پڑی تھی۔
پولیس نے خاتون کو صبح ہونے تک ایک اسکول میں قائم قرنطینہ میں ٹھہرا دیا تھا جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور تین افراد نے اجتماعی کی۔
راجستھان کے ضلع سوائی مادھوپور کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس پرتھ شرما نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو فون پر بتایا کہ خاتون سے زیادتی کرنے والے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے مزید 605 کیسز رپورٹ
عالمگیر وبا نے کھیلوں کا انداز بدل دیا
اس وقت دنیا کے اکثر ملکوں میں قرنطینہ کی سخت پابندیاں ہیں۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ ایسے میں آن لائن دوڑوں کے مقابلے لوگ بڑے شوق سے گھر میں بیٹھ کر دیکھ بھی رہے ہیں اور حصہ بھی لے رہے ہیں۔
بہت سی تنظیمیں کھلاڑیوں کو رجسٹر کر رہی ہیں۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جو مصنوعی طور پر دوڑ لگائیں گے۔ وہ اپنے مکان کے عقبی لان میں دوڑیں گے اور کمپیوٹر ان کی رفتار اور وقت کو ریکارڈ کر یں گے۔ اسے ورچول یا تصوراتی دوڑ کہا جاتا ہے۔
اس ورچوئل دوڑوں میں شرکا کو ایک مخصوص فاصلہ طے کرنا ہوتا ہے۔ ان کی رفتار کو ایک ایسی ایپ سے منسلک کر دیا جاتا ہے جو جی پی ایس سے جڑی ہوتی ہے۔ جب مقابلہ ختم ہو جاتا ہے تو اس کے نتائج منتظمین کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور وہ مقابلہ جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں اور انہیں انعامات اور میڈل بھیج دیتے ہیں۔
حکومت اور علما کا معاہدہ بے اثر، وائرس پھیلنے کی خدشات بڑھ گئے
پاکستان میں کرونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ اس مرض سے اموات کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ کچھ لوگ متاثرین کی تعداد بڑھنے کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ اب مرض کی بہتر ٹیسٹنگ ہو رہی ہے اور وہ مریض بھی سامنے آ رہے ہیں جو اب تک ظاہر نہیں ہوئے تھے۔
تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کا سبب رمضان کی خریداری کی گہما گہمی ہے جس کے دوران سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ دوسرا گلیوں محلوں کی مساجد میں ہونے والے رمضان کے اجتماعات ہیں اور اس بارے میں حکومت اور علما کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر درست طریقے سے عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔
اس حوالے سے صدر مملکت نے بھی اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے، جن کا یہ معاہدہ کروانے میں اہم کردار تھا۔ دوسری جانب علما کا مؤقف ہے کہ معاہدے پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔
ممتاز تجزیہ کار سلمان عابد نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو معاہدہ ہوا تھا، اس پر بظاہر پوری طرح عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ رمضان کی خریداری کے لیے نکلتے ہیں، وہ سماجی فاصلے کا بالکل خیال نہیں رکھ رہے اور یہ بہت خطرناک صورت حال ہے جس سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کو خود بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہو گا۔