وزیرِ اعظم عمران خان کا عمران اسماعیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ عمران اسماعیل کا کرونا ٹیسٹ پیر کی رات مثبت آیا تھا۔
وزیرِ اعظم نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ وہ عمران اسماعیل کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ انہیں مرض کیخلاف مزاحمت کی قوت اور سکت عطا فرمائیں۔
کرونا کے صحت یاب مریض کے لیے بھی احتیاط لازمی ہے
ڈاکٹر سواتی وشواناتھن کیلئے اپنے مریضوں کو یہ بتانا مشکل تھا کہ وہ ان کا علاج کیوں جاری نہیں رکھ سکتیں اور اچانک انہیں کووڈ 19 کے مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے آئی سی یو میں کیوں طلب کرلیا گیا ہے۔
یہ نیو یارک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی بہتات کے دن تھے۔ ڈاکٹر سواتی بروکلین نیو یارک ایچ ایچ سی ہاسپٹل میں آن کالوجسٹ ہیں۔ کینسر کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے انہیں کووڈ 19 کے مریضوں کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں فرائض انجام دینے کیلئے کہا گیا تھا۔
سواتی کے شوہر ڈاکٹر پراشانت موتھو کرشنا ایک پلمونالوجسٹ ہیں۔ وہ بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ڈیوٹی پر مامور ہیں۔ ڈاکٹر سواتی کہتی ہیں کہ پہلے تو خیال تھا کہ کینسر کے مریضوں کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک ہوتی ہے، مگر کووڈ 19 کا تجربہ ان کی لئے اس سے بھی بڑھ کر کٹھن رہا۔
وہ دونوں کہتے ہیں کہ مریضوں کیلئے کچھ نہ کر سکنا ایک ڈاکٹر کیلئے بہت تکلیف دہ بات ہے۔ ڈاکٹر ہمیشہ اپنی کامیابی چاہتا ہے مگر کووڈ 19 نے ڈاکٹروں کو بھی بے بس کر دیا ہے۔ اپنے سامنے مریضوں کو موت سے ہمکنار ہوتے دیکھنا اور پھر لواحقین کی مجبوری کہ وہ اپنے پیاروں کے آخری وقت ان کے ساتھ بھی نہیں، بہت المناک صورتِ حال ہے۔
اب اگرچہ مریضوں کی تعداد کم ہو رہی ہے مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں۔ ڈاکٹر موتھوکرشنا کہتے ہیں کہ جو لوگ صحتیاب ہو گئے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ کم از کم دو ہفتے تک احتیاط جاری رکھیں۔ اپنے ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں اور سوشل ڈسٹنسنگ پر عمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس وائرس پر تحقیق ہو رہی ہے اور یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ایک مرتبہ اس کا شکار ہونے والے لوگ اس سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گئے ہیں یا نہیں۔
کرونا وائرس سے اموات کم ہونے لگیں
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 30 لاکھ اور امریکہ میں 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے لیکن اب اموات کی تعداد میں کمی آنے لگی ہے۔ صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 9 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 210 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں پیر کو کرونا وائرس کیسز 30 لاکھ 50 ہزار اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 11 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔
24 گھنٹوں کے دوران فرانس میں 437، برطانیہ میں 360، اٹلی میں 333، اسپین میں 331، برازیل میں 272، کینیڈا میں 142 اور بیلجیم میں 113 مریض چل بسے۔ ایران میں یہ تعداد 96، ترکی میں 95، ایکویڈور میں 87، سویڈن میں 80، جرمنی میں 74، بھارت میں 58 اور سوئزرلینڈ میں 55 اور پرو میں 54 تھی۔
اٹلی میں ہلاکتوں کی کل تعداد 26977، اسپین میں 23521، فرانس میں 23293، برطانیہ میں 21092، بیلجیم میں 7207، جرمنی میں 6050، ایران میں 5806، چین میں 4633، برازیل میں 4543 اور نیدرلینڈز میں 4518 ہو چکی ہے۔
امریکہ میں پیر کی سہہ پہر تک 1114 اموات ہوئی تھیں جس کے بعد کل تعداد ساڑھے 56 ہزار سے زیادہ ہو گئی۔ ملک میں 56 لاکھ سے زیادہ شہریوں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن میں 10 لاکھ مثبت آئے ہیں۔
امریکہ کی 10 ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ مریض ہلاک ہو چکے ہیں۔ نیویارک میں 22612، نیوجرسی میں 6044، مشی گن میں 3407، میساچوسیٹس میں 3003، الی نوئے میں 1983، کنیٹی کٹ میں 1924، پینسلوانیا میں 1860، لوزیانا میں 1740، کیلی فورنیا میں 1725 اور فلوریڈا میں 1088 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ جارجیا، میری لینڈ اور انڈیانا میں یہ تعداد 900 سے زیادہ ہے۔
سندھ حکومت کا عوامی ریلیف پیکیج کا آرڈیننس لانے کا فیصلہ
سندھ کابینہ نے صوبے میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے پیدا شدہ صورت حال سے نمٹنے کے لئے آرڈیننس تیار کر کے منظوری کے لئے گورنر کو بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آرڈیننس کے تحت صوبے کی حدود میں تمام نجی اسکولز پر بیس فیصد فیس کٹوتی لازم قرار دی گئی ہے۔
اسی طرح وہ صارفین جن کے بجلی کے بلز ساڑھے تین سو سے چار سو یونٹس تک آتے ہیں، انہیں بجلی کا 50 فیصد بل قابل ادائیگی ہو گا جبکہ باقی آئندہ ماہ اقساط میں واجب الادا ہوں گے۔ اسی طرح صوبے میں 80 گز پلاٹ تک کے تمام پانی کے کنکشنز کے بل معاف تصور ہوں گے، جبکہ 81 سے 160 گز کے پلاٹ میں پانی کے کنکشنز پر 25 فیصد بل منہا کیے جائیں گے۔
مسودے کے مطابق کوئی نجی اسکول 80 فیصد سے زائد فیس وصول نہیں کر سکے گا۔
آرڈیننس کی منظوری کے بعد مالک مکان کرایہ اداروں کو ادائیگی میں مکمل یا جزوی رعایت دینے کے پابند ہوں گے، جس کے تحت 50 ہزار روپے سے کم کرایہ رواں ماہ کی بجائے تین ماہ میں اقساط کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔ اسی طرح مسودے کے تحت ایک لاکھ تک کا کرایہ پچاس فیصد ادا کیا جائے گا اور باقی تین ماہ میں ادا کیا جا سکے گا۔
بجلی کے علاوہ گیس کے 200 یونٹ تک کے بل پر بھی 25 فیصد کی رعایت دی گئی ہے۔ جب کہ تین سو یونٹس کے گیس بل پر پچاس فیصد رعایت ہو گی۔ تاہم اگر گیس کا بل تین سو یونٹس سے زیادہ ہو گا تو اسے پورا ادا کرنا ہو گا۔
صوبائی حکومت نے اسی طرح محصولات اور مختلف کیٹیگریز کی فیسوں میں بھی رعایت کا اعلان کیا ہے جس کے بارے میں متعلقہ محکمے رعایت کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ مسودے کے تحت وزیراعلی کو آرڈیننس میں کسی بھی وقت ترمیم یا تنسیخ کا اختیار ہو گا۔
ریلیف آرڈیننس کی خلاف ورزی پر سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ آرڈیننس کے تحت ریلیف نہ دینے والوں پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔