پنجاب کے دیہی علاقوں میں وبا کی آگہی مہم انوکھے انداز سے
پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دیہی علاقوں سے تاحال ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ محکمے نے دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانےکے لیے آگہی کی ایک خاص انداز کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ضیا الرحمٰن کی رپورٹ
عالمی وبا کے اقتصادی اثرات اور واشنگٹن میں بڑھتی سیاسی محاذ آرائی
کرونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات نے جہاں اقتصادی سرگرمیوں کا پیہہ جام کر دیا ہے، وہاں اس کے نتیجے میں، امریکہ میں سیاست دانوں میں بھی کشیدگی نے جنم لیا ہے جن میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
معاشی اور اقتصادی شعبے پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور ریاستی سطح پر اقدامات جاری ہیں اور بعض ریاستوں نے محتاط انداز میں پابندیاں نرم کر دی ہیں۔ لاک ڈاون میں متعدد ریاستوں کی معیشت کو شدید طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے اور وہ ایک اور امدادی پیکیج میں مزید فنڈنگ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہیں۔
کئی ہفتوں کے لاک ڈاون کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر مشیر کیون ہیسٹ کہتے ہیں کہ امریکی معیشت پر تاریخی نوعیت کے اثرات پڑ رہے ہیں۔
ان کے مطابق ہماری معیشت اس سے بڑے صدمے سے کبھی دوچار نہیں ہوئی۔ بیروزگاری اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ وہ اب عظیم کساد بازاری کے دور کی حدودوں کو چھونے والی ہے۔ دوسری جانب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے محصولات کی مد میں آمدن کم ہوتی جا رہی ہے جب کہ بیروزگاری الاونس کی ادائیگی کے باعث زبردست مالی بوجھ الگ پڑ رہا ہے۔ بہت سے گورنر کانگریس پر زور دے رہے ہیں کہ اگلے امدادی پیکیج میں ریاستوں کے لئے فنڈنگ مختص کی جائے۔
نیشنل گورنرز ایسوسی ایشین کے چیئرمین اور میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگان نے اے بی سی کے پروگرام ’دیس ویک‘ میں کہا کہ ہم اگلے محاذ پر ہیں اور ہمیں لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری خدمات مہیا کرنا لازمی ہے۔
لیکن بہت سے ریپبلکن اور وائٹ ہاؤس کے اقتصادی ماہرین امدادی فنڈنگ میں پہلے ہی دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ مہیا کیے جانے کے بعد مزید وفاقی قرض کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے
امریکہ میں پھنسے پاکستانی یوتھ ایکس چینج اسٹوڈنٹس کئی ہفتوں سے طیارے کے منتظر
امریکہ میں کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے یوتھ ایکس چینج پروگرام کے تحت 15 سے 17 سال کی عمروں کے 70 سے زیادہ طالب علم پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ طالب علم اپنے میزبان گھرانوں کے ساتھ مختلف امریکی ریاستوں میں رہ رہے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان سے کسی خصوصی طیارے کے انتظار میں اپنا رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں مگر ان کی فلائٹ کا شیڈول بار بار تبدیل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بے یقینی اورپریشانی کا شکار ہیں۔
وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں موجود ان طالب علموں نے کہا کہ وہ چاہتے کہ انہیں گو مگو میں رکھنے کی بجائے واضح طور پر بتا دیا جائے کہ پاکستانی حکومت ان کی واپسی کے لیے طیارے کا انتظام کب کرتی ہے، یا وہ ابھی کچھ نہیں کر رہے۔
ایریزونا میں موجود نوشہرہ کے حمزہ خٹک نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی میزبان فیملی جلد ہی اپنی ملازمت سے فارغ ہونے والی ہے، جس کے بعد وہ ان کی میزبانی نہیں کر پائے گی اور ایسےحالات میں وہ اپنے لئے نہ تو کوئی میزبان فیملی تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی گھرانا انہیں اپنے گھر میں مہمان رکھنے کو تیار ہو گا۔ اور اگر اس دوران ان کا ویزا ختم ہو گیا تو ان کے لئے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
کرونا وائرس سے رمضان کی روایات متاثر
رمضان المبارک سے جڑی ہوئی قدیم مسلم روایات کو اس سال کرونا وائرس کے سلسلے میں عائد پابندیوں نے گہنا دیا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں میں لوگوں کی آمدورفت، اجتماعات اور اجتماعی عبادات پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس بار رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے کتنا مختلف ثابت ہو رہا ہے؟ دیکھئے اس رپورٹ میں