رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

12:33 28.4.2020

کرونا وائرس: صدر ٹرمپ کا چین پر ہرجانے اور 'سنجیدہ تحقیقات' پر غور

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں نقصانات کے باعث چین کے خلاف تحقیقات اور ہرجانے پر غور شروع کر دیا ہے۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ "ہم موجودہ صورتِ حال سے خوش نہیں ہیں۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا۔"

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین سے خوش نہیں ہیں۔

انہوں نے چین کا نام لیے بغیر کہا کہ ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے بہت سے طریقے موجود ہیں۔

ایک جرمن اخبار نے حال ہی میں اپنے ایڈیٹوریل میں چین سے کہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے باعث جرمنی کی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے 165 بلین ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔

صدر ٹرمپ سے جب جرمن اخبار کے اس مطالبے سے متعلق سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ بھی ایسا مطالبہ کر سکتا ہے؟ جس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان کام کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جتنی رقم کا تقاضہ جرمنی کر رہا ہے اس کے مقابلے میں ہم کئی گنا زیادہ رقم کی بات کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

12:32 28.4.2020

پنجاب کے دیہی علاقوں میں وبا کی آگہی مہم انوکھے انداز سے

پنجاب کے شہروں میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق دیہی علاقوں سے تاحال ایک کیس بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ محکمے نے دیہی علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو کرونا وائرس سے بچانےکے لیے آگہی کی ایک خاص انداز کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ضیا الرحمٰن کی رپورٹ

پنجاب: دیہی علاقوں میں وبا کی آگہی مہم انوکھے انداز سے
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:40 0:00

12:31 28.4.2020

عالمی وبا کے اقتصادی اثرات اور واشنگٹن میں بڑھتی سیاسی محاذ آرائی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

کرونا وائرس کی وبا کے منفی اثرات نے جہاں اقتصادی سرگرمیوں کا پیہہ جام کر دیا ہے، وہاں اس کے نتیجے میں، امریکہ میں سیاست دانوں میں بھی کشیدگی نے جنم لیا ہے جن میں محاذ آرائی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

معاشی اور اقتصادی شعبے پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے کے لئے وفاقی اور ریاستی سطح پر اقدامات جاری ہیں اور بعض ریاستوں نے محتاط انداز میں پابندیاں نرم کر دی ہیں۔ لاک ڈاون میں متعدد ریاستوں کی معیشت کو شدید طور پر اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ہے اور وہ ایک اور امدادی پیکیج میں مزید فنڈنگ کے لئے وفاقی حکومت کی جانب دیکھ رہی ہیں۔

کئی ہفتوں کے لاک ڈاون کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر مشیر کیون ہیسٹ کہتے ہیں کہ امریکی معیشت پر تاریخی نوعیت کے اثرات پڑ رہے ہیں۔

ان کے مطابق ہماری معیشت اس سے بڑے صدمے سے کبھی دوچار نہیں ہوئی۔ بیروزگاری اتنی تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ وہ اب عظیم کساد بازاری کے دور کی حدودوں کو چھونے والی ہے۔ دوسری جانب کاروبار بند ہونے کی وجہ سے محصولات کی مد میں آمدن کم ہوتی جا رہی ہے جب کہ بیروزگاری الاونس کی ادائیگی کے باعث زبردست مالی بوجھ الگ پڑ رہا ہے۔ بہت سے گورنر کانگریس پر زور دے رہے ہیں کہ اگلے امدادی پیکیج میں ریاستوں کے لئے فنڈنگ مختص کی جائے۔

نیشنل گورنرز ایسوسی ایشین کے چیئرمین اور میری لینڈ کے گورنر لیری ہوگان نے اے بی سی کے پروگرام ’دیس ویک‘ میں کہا کہ ہم اگلے محاذ پر ہیں اور ہمیں لوگوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے ضروری خدمات مہیا کرنا لازمی ہے۔

لیکن بہت سے ریپبلکن اور وائٹ ہاؤس کے اقتصادی ماہرین امدادی فنڈنگ میں پہلے ہی دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ مہیا کیے جانے کے بعد مزید وفاقی قرض کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔

مزید پڑھیے

12:28 28.4.2020

امریکہ میں پھنسے پاکستانی یوتھ ایکس چینج اسٹوڈنٹس کئی ہفتوں سے طیارے کے منتظر

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ میں کرونا لاک ڈاون کی وجہ سے اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے یوتھ ایکس چینج پروگرام کے تحت 15 سے 17 سال کی عمروں کے 70 سے زیادہ طالب علم پھنس کر رہ گئے ہیں۔ یہ طالب علم اپنے میزبان گھرانوں کے ساتھ مختلف امریکی ریاستوں میں رہ رہے ہیں اور گزشتہ دو ہفتوں سے پاکستان سے کسی خصوصی طیارے کے انتظار میں اپنا رخت سفر باندھے بیٹھے ہیں مگر ان کی فلائٹ کا شیڈول بار بار تبدیل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے وہ بے یقینی اورپریشانی کا شکار ہیں۔

وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں موجود ان طالب علموں نے کہا کہ وہ چاہتے کہ انہیں گو مگو میں رکھنے کی بجائے واضح طور پر بتا دیا جائے کہ پاکستانی حکومت ان کی واپسی کے لیے طیارے کا انتظام کب کرتی ہے، یا وہ ابھی کچھ نہیں کر رہے۔

ایریزونا میں موجود نوشہرہ کے حمزہ خٹک نے بتایا کہ کورونا لاک ڈاون کی وجہ سے ان کی میزبان فیملی جلد ہی اپنی ملازمت سے فارغ ہونے والی ہے، جس کے بعد وہ ان کی میزبانی نہیں کر پائے گی اور ایسےحالات میں وہ اپنے لئے نہ تو کوئی میزبان فیملی تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی گھرانا انہیں اپنے گھر میں مہمان رکھنے کو تیار ہو گا۔ اور اگر اس دوران ان کا ویزا ختم ہو گیا تو ان کے لئے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG