زندگی پرانے معمول پر کب آئے گی؟ آئے گی بھی کہ نہیں؟
ہر شخص جاننا چاہتا ہے کہ زندگی کب معمول پر واپس آئے گی؟
امریکہ کی کئی ریاستوں کے گورنرز نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگائی گئی پابندیاں نرم کرنا شروع کیں تو یہ امید پیدا ہوئی کہ معمولات دوبارہ بحال ہونے والے ہیں۔ لیکن ریاستوں کے جو منصوبے سامنے آئے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ پرانے معمولات کی بحالی میں طویل عرصہ لگے گا۔
وائٹ ہاؤس کی مشیر ڈاکٹر ڈیبورا برکس کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو موسم گرما کے دوران سوشل ڈیسٹینسنگ برقرار رکھنا پڑے گی۔ لوزیانا کے گورنر جان بیل ایڈورڈز نے خبردار کیا ہے کہ ویکسین کے دستیاب ہونے تک اسی طرح زندگی گزارنا پڑے گی، جو شاید اگلے سال سے پہلے نہیں ملے گی۔ نیویارک کے گورنر اینڈریو کومو کہتے ہیں کہ زندگی میں جانے والے کل کی طرف واپسی ممکن نہیں۔
ابتدا ہی سے وبا نے ناممکن چناؤ پر مجبور کیا تھا، یعنی جسمانی صحت یا ذہنی صحت؟ معاشی تحفظ یا طبی تحفظ؟ امریکہ کی ریاستوں نے دنیا کی تقلید کا فیصلہ کیا اور دکانیں، ریسٹورنٹس، کارخانے اور تعلیمی ادارے بند کر دیے۔ لوگوں سے کہا کہ اپنے گھروں میں رہیں۔ اب ان پابندیوں میں کچھ نرمی کی جا رہی ہے۔
ریاست جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے کاروبار کو کھولنے کے لیے امریکہ میں سب سے زیادہ جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ گزشتہ جمعہ کو باربر شاپس، نیل سیلونز اور جمنازیمز کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ پیر سے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر کھانے اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش پر پابندی ختم کردی گئی۔ صحت عامہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کافی تعداد میں شہریوں کے ٹیسٹ کرنے سے پہلے ان اقدامات کا نتیجہ وائرس کے پھیلاؤ کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کا ویکسین کی تیاری میں پیشرفت کا دعویٰ
آکسفورڈ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے انسداد کے لیے وقت سے پہلے ویکسین تیار کر لیں گے۔ ان کے اس دعوے سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ ویکسین کے لیے شائد اگلے سال تک کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ اس ویکسین کا پہلا انجکشن یونی ورسٹی کے جینر انسٹی ٹیوٹ نے تیار کیا ہے۔ اس کی آزمائش بھی وقت سے پہلے شروع ہوگی۔
اخبار نیو یارک ٹائمز کی خبر کے مطابق، سائنس دان اس ویکسین کو مئی کے آخر میں چھ ہزار سے زیادہ افراد پر آزمائیں گے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر سب کچھ پروگرام کے مطابق ہوا، تو ستمبر تک دس لاکھ ویکسین ڈوز تیار ہو جائیں گے۔ اس کے بعد یہ سال سے ڈیڑھ سال کے اندر پوری دنیا میں دستیاب ہو جائے گی۔
ابتدائی تجربات سے اس ویکسین کے موثر ہونے کے امکانات ظاہر ہوئے ہیں۔ جانوروں پر اس کے تجربات سے اس کی تصدیق ہوئی ہے کہ اس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔
اس وقت پوری دنیا میں ایک سو سے زیادہ تجربہ گاہوں میں کرونا وائرس کے انسداد کے لیے ویکسین پر تجربات ہو رہے ہیں۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 125 کیس رپورٹ
افغانستان کے محکمہ صحت نے ملک میں کرونا وائرس کے مزید 125 کیسز کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد ملک میں مجموعی کیس 1828 ہو گئے ہیں۔
افغان محکمہ صحت کے مطابق اب تک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 58 ہو چکی ہے جبکہ 228 مریض صحت یاب ہو گئے ہیں۔
محکمہ صحت کے ترجمان ڈاکٹر وحید اللہ مایئر نے بتایا کہ کابل اور کچھ دوسرے صوبوں میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیاں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ اگر یہی رجحان رہا تو وائرس تیزی سے پھیلے گا۔
دریں اثنا افغان وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر ملکی امداد کا حصول ملکی ترجیحات میں شامل ہے۔