- By سدرہ ڈار
رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کے اہلخانہ بھی کرونا کا شکار
ایک ہفتہ قبل صوبائی رکن سندھ اسمبلی سید عبدالرشید کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، جس کے بعد وہ احیتاط سیلف آئسولیشن میں چلے گئے۔ تاہم، آج انھوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا ہے کہ اس وقت انکی فیملی کے آٹھ افراد اس وائرس سے متاثر ہیں، جن میں ان کی والدہ، اہلیہ، بچے اور بہنیں شامل ہیں۔ اہل خانہ کے ٹیسٹ کروانے کی وجہ عبدالرشید نے خود میں وائرس کے مثبت ہونے کی وجہ بتائی جس کے بعد فیملی کے ٹیسٹ بھی مثبت آئے۔
عبدالرشید کے مطابق، ان کے اہل خانہ کی طبیعت ٹھیک ہے اور تمام افراد سیلف ائسولیشن میں ہیں۔
سید عبدالرشید کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے اور وہ لیاری کے حلقے سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ کرونا وائرس کے دوران وہ الخدمت کے زیر انتظام فلاحی سرگرمیوں میں خاصے فعال بھی رہے۔ عبدالرشید جماعت اسلامی کے ضلع جنوبی کے امیر بھی ہیں۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کے بھائی جواد شعیب کا کہنا تھا کہ اس وبا کے دوران ان کے بھائی نہ صرف ریلیف کے کاموں میں سرگرم رہے، بلکہ دو ہفتہ قبل انھوں نے لیاری جنرل اسپتال کے کرونا وائرس سے متاثر مریضوں سے ملاقات کے لئے اسپتال کا دورہ بھی کیا تھا جس میں وہ تمام تر حٖفاظتی اقدامات کے تحت وارڈ میں مریضوں سے ملنے کے لئے گئے۔
اس کے علاوہ عبدالرشید نے اندرون سندھ، خصوصاً سکھر کے قرنطینہ کا بھی دورہ کیا تھا۔ سفر سے واپسی پر انھیں بخار اور تھکاوٹ تھی، جس کے پیش نظر ان کے اہل خانہ نے ان سے ٹیسٹ کروانے کو کہا جس پر انکا رزلٹ مثبت آیا۔ جواد شعیب کے مطابق، خاندان کے مزید اکیس افراد کا ٹیسٹ کرلیا گیا ہے جن کے تنائج آنا باقی ہیں۔ تاہم، اس وقت انکے وائرس سے متاثرہ اہل خانہ کی طبیعت بہتر ہے اور علامات کم ہونے کے سبب گھر ہی میں قرنطینہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔
- By نذر الاسلام
'اقتصادی طور پر پاکستانی شہريوں کو شديد دھچکا لگا ہے'
ملک ميں کرونا وائرس کے حوالے سے وفاقی وزير منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے گزشتہ دو ماہ کی صورت حال کا جائزہ لينے کے حالات کو تسلی بخش قرار ديا۔
اسلام آباد ميں نيشنل کمانڈ اينڈ کنٹرول سينٹر ميں ميڈيا سے بات کرتے ہوئے اسد عمر نے واضح کيا کہ پاکستان ميں اگرچہ باقی ماندہ دنيا کی نسبت ہلاکتيں بہت کم ہوئی ہيں تاہم اقتصادی طور پر پاکستانی شہريوں کو شديد دھچکا لگا ہے۔
انہوں نے بتايا کہ حکومت نے ملک بھر ميں احساس پروگرام کے تحت رقوم تقسيم کی ہيں جب کہ مزيد اقدامات کیے جا رہے ہيں۔
وزيراعظم کے خصوصی معاون برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتايا کہ اب تک پاکستان ميں 480 طبی عملے کے ارکان کرونا وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔
انہوں نے بتايا کہ پاکستان ميں کرونا وائرس کے حوالے سے صرف چار ٹيسٹنگ ليبارٹريز تھيں جو کہ اب بڑھ کر 52 ہو گئيں ہيں۔
ايک سوال کے جواب ميں اسد عمر نے بتايا کہ پاکستان ميں کرونا وائرس کی وبا اس تيزی سے ابھی تک نہيں پھيلی ہے جيسا کہ اندازہ لگایا جا رہا تھا۔ اس لیے حکومت آئندہ آنے والے دنوں ميں شہريوں کو مزيد ريليف دينے کا ارادہ رکھتی ہے۔
جرمنی میں کار ساز کمپنیوں میں پیداوار دوبارہ شروع
مختلف ممالک کی حکومتیں کاروبار پر پابندیوں کو بتدریج نرم کرتے ہوئے پیداواری شعبے پر توجہ دے رہی ہیں تاکہ لوگوں کو روزگار میسر آ سکے۔
جرمنی میں متعدد کار ساز کمپنیوں نے سماجی فاصلے کی پابندی پر عمل کرتے ہوئے پیداوار دوبارہ شروع کر دی ہے۔ جرمنی نے اسٹورز جیسے کاروبار پر بھی پابندیاں نرم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اسٹورز میں آنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازم ہو گا۔
برلن کے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے صدر لوتھر ویلر کا کہنا ہے کہ ہم سب کو احتیاط کرنا ہو گی تاکہ یہ وائرس مز ید پھیلنے نہ پائے۔
'ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا'
یورپ کی ہوا بازی کی کمپنی ایئر بس کا کہنا ہے کہ ہوا بازی کی صنعت کرونا وائرس کے باعث شدید بحران سے دوچار ہے جب کہ ہوائی سفر پر لوگوں کا اعتماد بحال کرنے میں طویل عرصہ لگے گا۔
سفری پابندیوں اور لوگوں کے گھروں میں محدود رہنے کے باعث ہوائی سفر میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے۔
ایئر بس نے سال کی پہلی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ہزاروں ملازمین کو فرلو پر بھیجنے اور گزشتہ سال کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 40 جہاز کم فراہم کرنے سے اسے 52 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔