کرونا وائرس کچھ لوگوں کو زیادہ اور کچھ کو کم بیمار کیوں کرتا ہے؟
صحت یاب افراد کے پلازمہ سے بیمار لوگوں کا علاج
کرونا بحران افغانستان اور پاکستان کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ
گرچہ افغانستان اور پاکستان کو مختلف اندرونی چیلنجز درپیش ہیں، دونوں ممالک کو کرونا وائرس کے بحران کو ایک قومی سلامتی کا مسئلہ سمجھ کر نمٹنے کی کوششیں کرنا ہوگی۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے ماہرین نے ایک آن لائن مباحثے میں کہا کہ کوڈ 19 محض صحت عامہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ بحران دونوں ممالک میں اقتصادی اور امن و امان کے معاملات کو بگاڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام اس مباحثے میں امریکی، پاکستانی اور افغان ماہرین نے موجودہ صورتحال پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔
گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے،انسٹیٹیوٹ کے افغانستان اور پاکستان کے ڈائریکٹر، مارون وائن بام نے دونوں ملکوں کی صورتحال بیان کی اور کہا کہ کرونا وائرس کی وبا نے دونوں ممالک کو ایک ایسے وقت میں متاثر کیا ہے جو دونوں ہی کے لیے بہت اہم ہے۔
روس میں مریض ایک لاکھ، اموات ایک ہزار سے زیادہ
کرونا وائرس سے بدترین متاثر اٹلی، اسپین اور فرانس میں اموات کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ لیکن، امریکہ اور برطانیہ میں وبا کا زور برقرار ہے۔ روس میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اور اموات ایک ہزار سے بڑھ گئی ہیں، جبکہ جنوبی امریکہ کے ملکوں میں صورتحال رفتہ رفتہ خراب ہو رہی ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، جمعرات تک 212 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 33 لاکھ اور ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 33 ہزار سے زیادہ ہوچکی تھی۔
24 گھنٹوں کے دوران امریکہ میں برطانیہ میں 674، برازیل میں 390، فرانس میں 289، اٹلی میں 285، اسپین میں 268، کینیڈا میں 184، میکسیکو میں 163، جرمنی میں 156، سویڈن میں 124، پرو میں 108 اور روس میں 101 مریض دم توڑ گئے۔ ترکی میں 93، بیلجیم میں بھی 93، نیدرلینڈز میں 84، بھارت میں 75 اور ایران میں 71 مریض چل بسے۔
امریکہ میں جمعرات کو 2201 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد کل تعداد 63856 تک پہنچ گئیں۔ ملک میں کرونا وائرس کے 63 لاکھ 90 ہزار ٹیسٹ ہوچکے ہیں جن میں 10 لاکھ 95 ہزار مثبت آئے ہیں۔