اسلام آباد میں گھروں کے باہر نوٹس چسپاں
اسلام آباد میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے انتظامیہ نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی ہے۔ پہلے کسی بھی علاقے میں وبا کے اندیشے کے باعث گلیوں کو بند کیا جا رہا تھا۔ اب گھروں کے باہر بھی پر نوٹس چسپاں کیے جا رہے ہیں۔ جس میں لوگوں کو وبا کے حوالے سے متنبہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 989 مریضوں کا اضافہ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے مزید 989 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں مریضوں کی مجموعی تعداد 19103 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مزید 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 440 ہو گئی ہے۔
حکام کی جانب سے ملک بھر میں وبا کی تصدیق کے لیے ٹیسٹس میں بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے۔ اب تک ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8700 سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب تک وبا سے 4817 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں وبا کے بہت زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب میں 7106 جب کہ سندھ میں 7102 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 2907، بلوچستان میں 1172، اسلام آباد میں 393، گکلگت بلتستان میں 356 جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 67 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کرونا ویکسن کی عدم دستیابی سے دنیا میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔
کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے طور پر ذرائع آمد و رفت بند ہیں یا بہت محدود ہیں اور اس کی وجہ سے بیشتر ترقی پذیر ملکوں تک ویکسین کی ترسیل ممکن نہیں رہی۔
ان ملکوں کا پہلے سے جمع شدہ سٹاک ختم ہو رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو پانچ سال سے کم عمر بچوں کی انتہائی ضروری ویکسین نہیں مل سکے گی۔
یونیسیف کی اطلاع کے مطابق، اس نے پچھلے سال اس ویکسین کے ڈھائی ارب ڈوزیز جمع کیے تھے۔ مگر لاک ڈوان کی وجہ سے جہاز رانی بہت محدود ہے اور ان کے ذریعے ان کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔
یہ ویکسین تقرباً سو ملکوں کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے مختص تھی جو ان ملکوں کی 45 فی صد ضرورتیں پورا کرنے کے لیے کافی تھی۔
مگر اب اِن حالات میں درجنوں ملکوں میں یہ ویکسین ختم ہو چکی ہے، خاص طور سے افریقہ میں ذیلی صحارا کے ملکوں میں ان بچوں کی صحت خطرے میں ہے۔
یونیسیف کی ترجمان میریکسی میر کاڈو نے کہا ہے کہ بحری جہازوں نے مال برداری کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے۔
چارٹر طیاروں سے بھیجنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کے کرائے ایک سو سے دو سو گنا زیادہ ہیں۔ غریب ملکوں کے پاس اتنے زیادہ وسائل نہیں کہ وہ انہیں اتنے مہنگے داموں خرید سکیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ بچے خسرہ اور پولیو جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہوں گے۔
دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہے، جو اس سال اور اگلے سال متاثر ہو سکتے ہیں۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اکثر مقامات پر پولیو کی مہم روک دی گئی ہے کیوں کہ وسائل ان کی اجازت نہیں دیتے۔
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔ ادارے نے نجی شعبے اور ایئر لائینز کی صنعت سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین کی سستے داموں ترسیل کے بندوبست میں ان کی مدد کریں۔
کرونا وائرس نے بنگلہ دیش میں لاکھوں خواتین کو بے روزگار کر دیا
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے بنگلہ دیش میں سلے سلائے کپڑوں کی صنعت سے وابستہ لگ بھگ 20 لاکھ کارکنوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے، کیونکہ بڑے پیمانے پر آرڈر منسوخ ہونے سے ہزاروں گارمنٹ فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں اور کارکنوں کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ گارمنٹ فیکٹریوں میں زیادہ تر خواتین کام کرتی ہیں۔
بنگلہ دیش چین کے بعد دنیا بھر میں سلے سلائے کپڑوں کا سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے۔ بنگلہ دیش کی سالانہ برآمدات 32 ارب ڈالر ہیں جن میں گارمنٹس کا حصہ 83 فی سے زیادہ ہے۔
بنگلہ دیش میں گارمنٹس کے چھوٹے بڑے 5 ہزار کے قریب یونٹس ہیں جو 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔ کارکنوں کی اوسط ماہانہ اجرت 100 ڈالر سے قدرے زیادہ ہے۔ گارمنٹ انڈسٹری کے پھلنے پھولنے سے بنگلہ دیش میں غریبی کم کرنے میں مدد ملی ہے اور بہت سے لوگوں کو دو وقت کا کھانا نصیب ہوا ہے۔
فیکٹریاں بند ہونے سے بے روزگار ہونے والی خواتین بہت پریشان ہیں۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اپنے بچوں کو خوراک مہیا کرنا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کب تک جاری رہتا ہے اور کب مارکیٹیں کھلتی ہیں اور فیکٹریوں کو آرڈر ملنا شروع ہوتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں سماجی فاصلوں اور دیگر حفاظتی انتظامات کے تحت گارمنٹ انڈسٹری کو اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی ہے اور لگ بھگ دو لاکھ کارکن اپنے کام پر واپس آ چکے ہیں۔ لیکن، فیکٹریوں میں پوری سطح پر کام شروع نہیں ہو سکا، جس کی وجہ بیرونی آرڈرز کی بڑے پیمانے پر منسوخی ہے۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹ انڈسٹری زیادہ تر یورپ اور امریکہ کی مارکیٹوں کے لیے کام کرتی ہے جو کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑی ہیں۔ اور انہوں نے اپنے آرڈرز منسوخ کر دیے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، منسوخ ہونے والے آرڈرز کی مالیت 3 ارب ڈ الر سے زیادہ ہے۔
کئی فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ منسوخ ہونے والے بعض آرڈر مکمل ہو چکے تھے اور صرف انہیں بھیجنا باقی رہ گیا تھا۔ بہت سے آرڈرز پر کام ہو رہا تھا اور وہ تکمیل کے آخری مراحل میں تھے، بہت سے آرڈرز کے لیے کپڑا اور دوسرا سامان خریدا جا چکا تھا، مگر 72 فی صد سے کمپنیوں نے اس کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ فیکٹری مالکان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد ان کے پاس تالہ لگانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔
بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹس کے شعبے کے متاثرین کے لیے 588 ملین ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا ہے جس پر 2 فی صد سود لیا جائے گا۔ گارمنٹ انڈسٹری نے اسے ناکافی قرار دے کر کہا ہے کہ اس رقم سے محض ایک مہینے کی تنخواہیں ادا کی جا سکتی ہیں۔
لاک ڈاؤن کی نرمی کے بعد کئی فیکٹریوں میں کام شروع ہو گیا ہے مگر بہت سے کارکن اس خوف میں مبتلا ہیں کہ انہیں وائرس نہ لگ جائے؛ کیونکہ، اکثر فیکٹریاں بہت چھوٹی جگہوں پر قائم ہیں اور کام کے دوران سماجی فاصلہ برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔
بنگلہ دیش میں ہفتے کے روز تک تقریباً 8800 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی تھی اور اموات کی تعداد 175 تھی۔