کرونا وائرس کے ووہان کی تجربہ گاہ سے نکلنے کے شواہد ہیں، پومپیو
امریکی وزیر خارجہ نے چین پر الزام لگایا ہے کہ اس نے بہت تاخیر سے وائرس پھیلنے کی اطلاع دنیا کو دی تھی۔ اگر وہ پہلے باخبر کر دیتا تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ ہو تیں۔ اس نے عالمی ادارہ صحت کو بھی اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کے روز کہا کہ بہت سی شہادتیں ایسی ہیں، جن سے پتا چلتا ہے کہ کرونا وائرس کا وبائی مرض کسی بازار سے نہیں بلکہ چین کے شہر ووہان کی لیبارٹری سے نکلا۔ تاہم انہوں نے یہ کہنے سے احتراز کیا کہ آیا یہ فعل ارادی تھا یا حادثاتی۔
پچھلے ہفتے امریکی انٹیلی جینس کے حکام نے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں تحقیق کر رہے ہیں کہ ابتدائی طور پر یہ وائرس کسی جنگلی جانور سے انسان کو لگا تھا یا یہ ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائیرا لوجی سے حادثاتی طور پر باہر آیا۔
امریکی ٹی وی، اے بی سی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ یاد رکھنا چاہیے کہ چین کی دنیا کو انفیکٹ کرنے اور غیر معیاری تجربہ گاہوں کی تاریخ موجود ہے۔ دنیا کو یہ تجربہ پہلی بار نہیں ہوا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ بہت سے شواہد کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وائرس ووہان کی تجربہ گاہ سے نکلا جہاں چمگادڑوں میں اس وائرس کی موجودگی پر تحقیق ہو رہی تھی۔
پومپیو نے کہا کہ انہیں امریکی انٹیلی جینس کی اس تحقیق پر کوئی شک نہیں کہ یہ نہ انسان کا بنایا ہوا ہے اور نہ یہ جینیاتی طور تبدیل کیا گیا ہے۔
وزیر خارجہ نے چین پر الزام لگایا کہ اس نے دنیا کو بہت تاخیر سے یہ اطلاع دی کہ کرونا وائرس پھیل چکا ہے۔ اگر وہ پہلے باخبر کر دیتا تو اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ اس نے عالمی ادارہ صحت کو بھی اپنے اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ امریکی یا بین الاقوامی سائنس دانوں کو ووہان لیبارٹری جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی چین نے اصلی وائرس کا نمونہ فراہم کیا۔ اس طرح چین نے دنیا کو اس وائرس کے ماخذ کے بارے مزید تحقیق کرنے سے روکنے کی تحریک چلائی۔
وزیر خارجہ پومپیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ ہم ذمہ داری کا تعین اور جواب دہی کریں گے۔ اس جواب دہی کے لیے وقت کا تعین ہم خود کریں گے۔
اسلام آباد میں گھروں کے باہر نوٹس چسپاں
اسلام آباد میں کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے انتظامیہ نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی اپنائی ہے۔ پہلے کسی بھی علاقے میں وبا کے اندیشے کے باعث گلیوں کو بند کیا جا رہا تھا۔ اب گھروں کے باہر بھی پر نوٹس چسپاں کیے جا رہے ہیں۔ جس میں لوگوں کو وبا کے حوالے سے متنبہ کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 989 مریضوں کا اضافہ
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے مزید 989 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں مریضوں کی مجموعی تعداد 19103 ہو گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور مزید 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد وبا سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 440 ہو گئی ہے۔
حکام کی جانب سے ملک بھر میں وبا کی تصدیق کے لیے ٹیسٹس میں بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے۔ اب تک ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 8700 سے زائد ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب تک وبا سے 4817 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
پاکستان میں پنجاب اور سندھ میں وبا کے بہت زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ پنجاب میں 7106 جب کہ سندھ میں 7102 افراد میں وبا کی تصدیق ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 2907، بلوچستان میں 1172، اسلام آباد میں 393، گکلگت بلتستان میں 356 جب کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 67 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
کرونا ویکسن کی عدم دستیابی سے دنیا میں لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرہ
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔
کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے اقدامات کے طور پر ذرائع آمد و رفت بند ہیں یا بہت محدود ہیں اور اس کی وجہ سے بیشتر ترقی پذیر ملکوں تک ویکسین کی ترسیل ممکن نہیں رہی۔
ان ملکوں کا پہلے سے جمع شدہ سٹاک ختم ہو رہا ہے اور اگر حالات یہی رہے تو پانچ سال سے کم عمر بچوں کی انتہائی ضروری ویکسین نہیں مل سکے گی۔
یونیسیف کی اطلاع کے مطابق، اس نے پچھلے سال اس ویکسین کے ڈھائی ارب ڈوزیز جمع کیے تھے۔ مگر لاک ڈوان کی وجہ سے جہاز رانی بہت محدود ہے اور ان کے ذریعے ان کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔
یہ ویکسین تقرباً سو ملکوں کے پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے مختص تھی جو ان ملکوں کی 45 فی صد ضرورتیں پورا کرنے کے لیے کافی تھی۔
مگر اب اِن حالات میں درجنوں ملکوں میں یہ ویکسین ختم ہو چکی ہے، خاص طور سے افریقہ میں ذیلی صحارا کے ملکوں میں ان بچوں کی صحت خطرے میں ہے۔
یونیسیف کی ترجمان میریکسی میر کاڈو نے کہا ہے کہ بحری جہازوں نے مال برداری کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا ہے۔
چارٹر طیاروں سے بھیجنا اس لیے بھی مشکل ہے کہ ان کے کرائے ایک سو سے دو سو گنا زیادہ ہیں۔ غریب ملکوں کے پاس اتنے زیادہ وسائل نہیں کہ وہ انہیں اتنے مہنگے داموں خرید سکیں۔ اس کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ بچے خسرہ اور پولیو جیسی مہلک بیماریوں کا شکار ہوں گے۔
دنیا بھر میں ایسے بچوں کی تعداد دو کروڑ سے زیادہ ہے، جو اس سال اور اگلے سال متاثر ہو سکتے ہیں۔
صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اکثر مقامات پر پولیو کی مہم روک دی گئی ہے کیوں کہ وسائل ان کی اجازت نہیں دیتے۔
یونیسیف نے انتباہ کیا ہے کہ معمول کی ویکسی نیشن کا پروگرام اگر متاثر ہوا تو پھر بہت سے ملکوں میں متعدی امراض پھوٹ پڑیں گے۔ ادارے نے نجی شعبے اور ایئر لائینز کی صنعت سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین کی سستے داموں ترسیل کے بندوبست میں ان کی مدد کریں۔