پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی واپسی
افغانستان سے ملحقہ ضلع خیبر کے سرحدی قصبے لنڈی کوتل اور اس کے گردونواح میں پچھلے کئی دنوں سے موجود افغان باشندوں کو بدھ کو وطن جانے کی اجازت دے دی گئی۔
حکام کے مطابق ان لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وطن واپسی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو پشاور میں ایک اجلاس میں پاکستان میں پھنسے افغان باشندوں کی وطن واپسی کا فیصلہ ہوا تھا۔
لنڈی کوتل اور اس کے گردو نواح میں گزشتہ کئی دنوں سے افغانستان واپسی کے منتظر افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
ان میں سے زیادہ تر لوگ وہی تھے جو مارچ کے وسط سے قبل پشاور اور دیگر شہروں کے اسپتالوں میں علاج معالجے کے عرض سے آئے تھے۔ حکام کا کہنا تھا کہ بدھ کو لگ بھگ 4600 افغان باشندے طورخم کے راستے افغانستان واپس چلے گئے ہیں۔
اس سے قبل چھ اپریل سے نو اپریل تک چار دنوں کے دوران 20 ہزار سے زیادہ افغان باشندے طورخم کے راستے واپس چلے گئے تھے۔
چمن اور طورخم کے علاوہ دیگر گزرگاہوں سے تجارت کے لیے بھی غور جاری ہے۔ قبائلی اضلاع خیبر، کرم اور سمالی وزیرستان کے تاجروں نے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات کی ہے۔
ملاقات میں خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ کو بھی افغانستان کے ساتھ تجارت کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔ تاجروں کے مطابق مشیر تجارت نے اُنہیں یقین دہانی کرائی ہے۔
وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر نے رابطے پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس سلسلے وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطے ہیں اور بہت جلد اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
پنجاب میں ترقیاتی اداروں کو دفاتر کھولنے کی مشروط اجازت
محکمہ صحت پنجاب نے صوبے بھر میں ترقیاتی اداروں کے دفاتر کھولنے کی مشروط اجازت دے دی ہے۔
ترجمان محکمہ صحت حافظ قیصر عباس کے مطابق متعلقہ اداروں کو ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا۔ جس کے تحت دفاتر میں سماجی فاصلہ، صفائی کے انتظامات اور ضرورت کے مطابق ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
جن اداروں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے، ان میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، فیصل آباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی سمیت دیگر اضلاع کے ترقیاتی ادارے شامل ہیں۔
لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل احمد عزیز تارڑ کا کہنا ہے کہ تعمیراتی شعبہ کھولنے کے حکومتی اعلان کے بعد یہ ادارے کھولنا ناگزیر تھا۔
ڈی جی ایل اے کے مطابق ون ونڈو میں نئی عمارتوں کے نقشوں کی منظوری اور پہلے سے تعمیر شدہ عمارتوں میں تبدیلی کرنے کی درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ نئی کمرشلائزیشن کی اجازت حاصل کرنے کی درخواستیں بھی جمع کرائی جا سکیں گی۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے احمد عزیز تارڑ نے بتایا کہ دفاتر آنے سے پہلے تمام شہریوں کو آن لائن وقت ٹوکن لینا ہوگا۔ جس کے لیے ویب سائٹ www.lda.gop.pk پر خصوصی پورٹل بنا دیا گیا ہے۔
شہریوں کو بذریعہ ایس ایم ایس متعلقہ دفتر آنے کا دن اور وقت بتایا جائے گا۔