رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:35 7.5.2020

افغانستان میں کرونا کے مزید 171 کیس رپورٹ

افغانستان کی وزارتِ صحت نے ملک کے 13 صوبوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید 171 کیس رپورٹ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد ملک بھر میں کرونا کیسز کی تعداد 3563 ہو گئی ہے۔

نائب وزیر صحت ڈاکٹر واحداللہ مجروح نے کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 106 بتائی ہے۔

انہوں نے کابل میں دن کے اوقات میں کرفیو کی خلاف ورزی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وائرس کے پھیلاؤ میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے۔ کابل میں کرونا وائرس کیسز کی تعداد 925، ہرات میں 707، قندھار میں 464، بلخ میں 230 اور پکتیا میں 155 ہے۔

17:31 7.5.2020

سندھ میں ایک ہی روز میں ریکارڈ 14 ہلاکتیں

پاکستان کے صوبے سندھ میں کرونا وائرس سے ایک ہی روز میں 14 ریکارڈ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس سے قبل صوبے میں 29 اپریل کو زیادہ سے زیادہ 12 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی تھیں۔

اسی دوران صوبہ سندھ میں مزید 453 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد صوبے میں مریضوں کی تعداد نو ہزار سے بڑھ گئی ہے۔

صوبائی محکمہ صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں بدھ کو مجموعی طور پر تین ہزار 534 ٹیسٹ کئے گئے تھے۔ اب تک کیے گئے ٹیسٹس کی تعداد 76 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔

سندھ میں کرونا وائرس سے بدھ کو ہونے والی 14 ہلاکتوں کے ساتھ اس وائرس سے موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد بڑھ کر 171 ہو گئی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق اس وقت صوبے میں سات ہزار سے زائد کرونا کے مریض زیرِ علاج ہیں۔ جن میں سے 5858 افراد گھروں میں، 683 آئسولیشن سینٹرز اور 528 اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ان میں سے 87 مریضوں کی حالت تشویش ناک بھی بتائی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک ہی روز میں 122 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔

ادھر صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شہری کو زبردستی 'آئسولیشن سینٹر' میں منتقل نہیں کیا جائے گا۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہر شہری کا یہ اختیار ہے کہ وہ گھر میں خود ساختہ تنہائی اختیار کرتا ہے یا اسپتالوں میں آتا ہے۔ لیکن گھر میں آئسو لیشن کے لیے محکمہ صحت کے ایس او پیز پر عمل درآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

15:55 7.5.2020

پاکستان میں تعلیمی ادارے 15 جولائی تک بند رکھنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے اب 15 جولائی تک بند رکھے جائیں گے۔

تمام بورڈز امتحانات نہیں لیں گے، گزشتہ تعلیمی سال کی کارکردگی پر بچوں کو اگلی کلاسوں میں پروموٹ کیا جائے گا۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ یونیورسٹیز میں داخلے گیارہویں جماعت کے نتائج جب کہ کالجز میں داخلے نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔

شفقت محمود کے بقول یہ فیصلہ بچوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ تمام فیصلے چاروں صوبوں کی مشاورت سے کیے گئے ہیں۔

15:50 7.5.2020

پاکستان میں دکانیں سحری کے بعد سے شام پانچ بجے تک کھولنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے لاک ڈاؤن کھولنے سے متعلق فیصلوں سے متعلق آگاہ کیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے مشاورت سے کیے گئے ہیں۔ چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ گلی محلوِں، دیہات اور ایسی دکانیں جہاں لوگوں کا زیادہ رش نہیں ہوتا، اُنہیں کھولا جائے گا۔

وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کے بقول جن صنعتوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان میں الیکٹرک، سرامکس، ایلومینیم، پینٹ شاپس، ٹائیلز، ہارڈ ویئر شامل ہیں۔ البتہ بڑے شاپنگ مالز بدستور بند رکھنے ہی کا فیصلہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ سحری کے بعد دکانیں کھولنے کی اجازت ہو گی، جو شام پانچ بجے تک کھلی رہیں گی۔ یہ دکانیں ہفتے میں دو روز بند بھی رہیں گی۔ البتہ، خوراک سے متعلقہ دکانیں اور میڈیک اسٹورز پورا ہفتہ کھلے رہیں گے۔

اسد عمر کا کہنا تھا کہ اسپتالوں کے آؤٹ ڈور شعبہ جات کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اسکول کی چھٹیوں میں مزید توسیع کر دی گئی ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG