سات ہفتوں میں 3 کروڑ 30 لاکھ امریکی بیروزگار
امریکہ میں گزشتہ ہفتے 32 لاکھ افراد نے محکمہ محنت کو مطلع کیا کہ وہ روزگار سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔ اس طرح سات ہفتوں میں بیروزگار ہوجانے والوں کی تعداد 33 ملین یعنی 3 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
بعض ریاستوں کے حکام نے کہا ہے کہ ان کے ایک چوتھائی سے زیادہ کام کرنے والوں کا ذریعہ آمدن ختم ہوا ہے۔
محکمہ محنت اپنی ماہانہ رپورٹ جمعہ کو جاری کرے گا۔ ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ اس میں اپریل کے مہینے میں بیروزگاری 15 فیصد یا زیادہ بیان کی جائے گی جو کساد بازاری کے زمانے کی شرح ہے۔
صدر ٹرمپ نے مارچ کے وسط میں ملک میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد پہلے ہفتے میں 33 لاکھ، دوسرے میں 69 لاکھ، تیسرے میں 66 لاکھ، چوتھے میں 52 لاکھ، پانچویں میں 44 لاکھ اور چھٹے ہفتے میں 38 لاکھ شہری بیروزگار ہوئے تھے۔
پاکستان میں مریض ساڑھے 24 ہزار، اموات 585 ہوگئیں
پاکستان میں جمعرات کو کرونا وائرس کے مزید 571 کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 21 مریض چل بسے۔ اس طرح ملک بھر میں اموات کی تعداد 585 تک پہنچ گئی ہے۔
سب سے زیادہ ہلاکتیں خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جن کی تعداد 203 ہے۔ پنجاب میں 182، سندھ میں 171، بلوچستان میں 22، اسلام آباد میں 4 اور گلگت بلتستان میں 3 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ آزاد کشمیر میں کسی کا انتقال نہیں ہوا۔
جمعرات کو کرونا وائرس کے 12 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے۔ اب تک ملک بھر میں 2 لاکھ 44 ہزار سے زیادہ ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جن میں 24644 مثبت آئے ہیں۔
اب تک پنجاب میں 9195، سندھ میں 9093، خیبر پختونخوا میں 3712، بلوچستان میں 1659، اسلام آباد میں 521، گلگت بلتستان میں 388 اور آزاد کشمیر میں 76 مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے۔
ملک میں 6464 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ ان میں پنجاب کے 3184، سندھ کے 1731، خیبرپختونخوا کے 939، گلگت بلتستان کے 288، بلوچستان کے 209، اسلام آباد کے 56 اور آزاد کشمیر کے 57 شہری شامل ہیں۔
لاک ڈاؤن کے باعث معاشی مشکلات، پاکستان میں لوگ اثاثے بیچنے پر مجبور :سروے
رائے عامہ کا جائزہ لینے والے بین الاقوامی ادارے 'گیلپ انٹرنیشنل' سے منسلک 'گیلپ پاکستان' کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والے معاشی بحران پر پاکستان میں سروے کیا ہے جس کے مطابق ایک بڑی تعداد میں پاکستان کے عام شہریوں کے لیے نہ صرف غذائی اور مالی عدم تحفظ میں اضافہ ہوا ہے بلکہ انہیں روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے بعض اثاثے فروخت کرنے پڑے ہیں۔
'گیلپ پاکستان' نے فون پر کیے جانے والے سروے کے نتائج جمعرات کو جاری کیے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریبا 69 لاکھ گھرانوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بنیادی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے روز مرہ کی خوراک میں کمی کی ہے۔
سروے کے مطابق لگ بھگ 23 فی صد پاکستانی ایسے ہیں جن کا روز مرہ کی بنیادی ضروریات کے لیے انحصار کم ترجیح کی حامل اور سستی اشیا خور و نوش پر ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 40 افراد ایسے ہیں جنہوں اپنی خوراک کے حصول کے لیے قرض یا اپنے کسی دوست کا عزیز کی مدد پر انحصار کرنا پڑا۔
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں بھی مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
صوبے میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 3712 ہے جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 213 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
صوبے میں کرونا کے باعث مرنے والوں کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ 203 ہے۔
وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانے پر کام ہو رہا ہے۔ اُن کے بقول ابتداً صرف 20 ٹیسٹ کیے جا رہے تھے۔ لیکن اب روزانہ 1500 ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے مختلف اسپتالوں میں اب تک 150 سے زیادہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے اہلکار کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔