بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث آن لائن شادی، ہزاروں افراد کی شرکت
بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث ایک جوڑے نے 19 اپریل کو شیڈول اپنی شادی کی تقریب ملتوی کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کے ذریعے اسے ممکن بنایا۔ دلہا ممبئی اور دلہن اتر پردیش میں تھی جب کہ پنڈت نے ریاست چھتیس گڑھ میں بیٹھ کر شادی کی رسومات ادا کیں۔
بھارت میں شادی کی تقریبات کئی روز تک جاری رہتی ہیں، لیکن کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نے شادی کی تقریبات کو بھی محدود کر دیا ہے۔ لہذٰا اب کئی جوڑے آن لائن شادی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دلہا سوسن ڈانگ شادی کی رسومات کے لیے ممبئی میں روایتی لباس زیبِ تن کیے آن لائن ہوئے جب کہ دلہن کریتی نارنگ اتر پردیش کے شہر بریلی سے سرخ جوڑا پہنے آن لائن ہوئیں۔
دلہا، دلہن کے لگ بھگ 100 عزیز و اقارب ایک آن لائن ایپ کے ذریعے مختلف مقامات سے شادی میں شریک ہوئے۔ تقریب کی لائیو اسٹریمنگ کی گئی جسے لگ بھگ 16 ہزار افراد نے دیکھا۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 215 کیس رپورٹ
افغانستان کی وزارت صحت نے 14 صوبوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 215 نئے کیسز کی اطلاع دی ہے۔
افغانستان میں کووڈ 19 مریضوں کی کل تعداد 3778ہو گئی ہے۔ کابل 1025 کیسز کے ساتھ ملک میں 34 صوبوں میں سر فہرست ہے۔ صحت کے نائب وزیر ڈاکٹر واحداللہ مجروح نے کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 109 بتائی ہے جبکہ جمعے کے روز تک 472 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مرحلہ وار واپسی جاری ہے: دفترِ خارجہ
پاکستان کی دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن وایس کے لیے چار مرحلے مکمل ہو چکے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ ترجمان کے بقول اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 75 ہزار پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہش مند ہیں۔
یادر ہے کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی بیرون ممالک میں کام کررہے ان میں سے 23 لاکھ صرف سعودی عرب جبکہ متحدہ عرب امارت میں 13 لاکھ پاکستان روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔
کرونا کے باعث کئی افراد کے روزگار ختم ہو گئے ہیں، لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے وہ مذکورہ ملکوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔ جن میں سے متحدہ عرب امارت سے 60 ہزار جبکہ سعودی عرب سے 16 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اب تک 19 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔
ایران میں کرونا وائرس وبا کے دوران زلزلے سے تباہی
ایران میں کرونا وائرس کے ساتھ ساتھ زلزلے نے تباہی مچا دی ہے اور ہزاروں افراد تہران میں سڑکوں پر نکل آئے۔ جس سے کرونا وائرس سے بچنے کی خاطر سماجی فاصلے کی پابندی برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا۔ اب تک ملنے والی اطلاعات کے مطابق زلزلے سے دارالحکومت تہران میں کم سے کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر آسٹریلیا نے آج جمعہ کے روز سے لاک ڈاؤن کی پابندیاں تین مرحلوں میں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر پینس کا ہر روز کرونا وائرس ٹیسٹ کیا جائے گا۔ یہ اقدام صدر ٹرمپ کے عملے کے ایک رکن کا ٹیسٹ مثبت آنے پر اٹھایا گیا ہے۔
ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے باعث بے روز گاری کی شرح 16 فی صد تک پہنچ سکتی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا نہ گیا تو اس بر اعظم میں چار کروڑ چالیس لاکھ افراد اس وائرس میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور یہاں ہلاکتوں کی تعداد 190,000 تک پہنچ سکتی ہے۔
ادارے کی ایک حالیہ رپورٹ میں افریقہ کے 47 ممالک میں موجود صورت حال کا احاطہ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ افریقہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح پہلے سال کے دوران دنیا کے دیگر علاقوں سے کم رہنے کی توقع ہے، تاہم خدشہ ہے کہ افریقہ میں کرونا وائرس شدت کے ساتھ باقی دنیا سے زیادہ دیر تک جاری رہ سکتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے افریقی خطے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشی دیسوموئیٹی کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس آئندہ آنے والے کئی برسوں تک ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ رہ سکتا ہے۔ لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیسٹ بڑھائے جائیں۔
ڈاکٹر موئیٹی کا کہنا ہے کہ اگر افریقہ میں کرونا وائرس زور پکڑ گیا تو استپالوں کی استعداد بحران کا شکار ہو سکتی ہے اور اگر اس وائرس کی روک تھام اب نہ کی گئی تو بعد میں اسے روکنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔