کرونا وائرس صورتحال پر غور کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا
پاکستان کی پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن کے بعد پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اتفاق کیا ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ یہ غیر روایتی اجلاس اگلے ہفتے 11 مئی سے شروع ہو گا۔
اجلاس میں کرونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے گا۔
حزب اختلاف اور حکومتی جماعت کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ اس غیر معمولی اجلاس میں نہ تو قانون سازی ہو گی۔ نہ سوالات پوچھے جائیں گے اور نہ ہی کوئی توجہ دلاؤ نوٹس یا تحریک التوا پیش کی جائے گی۔
بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث آن لائن شادی، ہزاروں افراد کی شرکت
بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث ایک جوڑے نے 19 اپریل کو شیڈول اپنی شادی کی تقریب ملتوی کرنے کے بجائے انٹرنیٹ کے ذریعے اسے ممکن بنایا۔ دلہا ممبئی اور دلہن اتر پردیش میں تھی جب کہ پنڈت نے ریاست چھتیس گڑھ میں بیٹھ کر شادی کی رسومات ادا کیں۔
بھارت میں شادی کی تقریبات کئی روز تک جاری رہتی ہیں، لیکن کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن نے شادی کی تقریبات کو بھی محدود کر دیا ہے۔ لہذٰا اب کئی جوڑے آن لائن شادی کو ترجیح دے رہے ہیں۔
دلہا سوسن ڈانگ شادی کی رسومات کے لیے ممبئی میں روایتی لباس زیبِ تن کیے آن لائن ہوئے جب کہ دلہن کریتی نارنگ اتر پردیش کے شہر بریلی سے سرخ جوڑا پہنے آن لائن ہوئیں۔
دلہا، دلہن کے لگ بھگ 100 عزیز و اقارب ایک آن لائن ایپ کے ذریعے مختلف مقامات سے شادی میں شریک ہوئے۔ تقریب کی لائیو اسٹریمنگ کی گئی جسے لگ بھگ 16 ہزار افراد نے دیکھا۔
افغانستان میں کرونا کے مزید 215 کیس رپورٹ
افغانستان کی وزارت صحت نے 14 صوبوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 215 نئے کیسز کی اطلاع دی ہے۔
افغانستان میں کووڈ 19 مریضوں کی کل تعداد 3778ہو گئی ہے۔ کابل 1025 کیسز کے ساتھ ملک میں 34 صوبوں میں سر فہرست ہے۔ صحت کے نائب وزیر ڈاکٹر واحداللہ مجروح نے کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 109 بتائی ہے جبکہ جمعے کے روز تک 472 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی مرحلہ وار واپسی جاری ہے: دفترِ خارجہ
پاکستان کی دفترخارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بیرون ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن وایس کے لیے چار مرحلے مکمل ہو چکے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگلے مرحلے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ ترجمان کے بقول اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 75 ہزار پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہش مند ہیں۔
یادر ہے کہ ایک بڑی تعداد میں پاکستانی بیرون ممالک میں کام کررہے ان میں سے 23 لاکھ صرف سعودی عرب جبکہ متحدہ عرب امارت میں 13 لاکھ پاکستان روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں۔
کرونا کے باعث کئی افراد کے روزگار ختم ہو گئے ہیں، لیکن فلائٹ آپریشن بند ہونے سے وہ مذکورہ ملکوں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
عائشہ فاروقی نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اب تک ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہری وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔ جن میں سے متحدہ عرب امارت سے 60 ہزار جبکہ سعودی عرب سے 16 ہزار پاکستانی واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول اب تک 19 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو وطن واپس لایا جا چکا ہے۔