پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا کے مزید سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستانی کشمیر میں کرونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 86 ہو گئی ہے۔
پاکستانی کشمیر میں اب تک 2780 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 2668 کے رزلٹ آ چکے ہیں۔ 86 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی، جن میں سے 62 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
مختلف اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ 24 مریض زیرِ علاج ہیں۔
کوئٹہ میں27 میڈیا ورکرز کرونا وائرس کا شکار
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں کام کر نے والے دو درجن سے زائد صحافی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد دو نیوز چینل کے دفاتر سیل کر دیے گئے ہیں۔
بلوچستان یونین اف جرنلسٹس کے جنرل سیکرٹری رشید بلوچ نے وائس اف امریکہ کو بتایا کہ صحافی بھی ڈاکٹروں کی طرح فرنٹ لائن پر کام کر تے ہیں۔ لہذا وہ بھی اس وبا سے متاثر ہو رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ متاثر ہونے والے صحافیوں نے اپنے گھروں میں آئسولیشن اختیار کر لی ہے۔
حکومت عالمی ادارہ صحت کی ہدایات پر عمل کرے: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ڈبلیو ایچ او کی ہدایات پر عمل کرے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کے عہدے داروں نے کہا کہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن حکومت لاک ڈاؤن نرم کر رہی ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے والے ملکوں کو خبردار کر رہا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ جو لاک ڈاؤن پہلے نافذ تھا، ہمیں آُس پر بھی تحفظات تھے۔ جگہ جگہ رش اور لوگوں کی بھیٹر تھی۔ لہذٰا لاک ڈاؤن میں نرمی سے صورتِ حال مزید خراب ہو سکتی ہے۔