امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی شروع
امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پہلی خصوصی پرواز اتوار کی شب واشنگٹن سے تقریباً 200 مسافروں کو لے کر اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔
پی آئی اے کی دوسری پرواز 150 مسافروں کو لے کر پیر کو امریکہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوگی۔
ان خصوصی پروازوں کا انتظام حکومت پاکستان کی جانب سے امریکہ میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے کیا گیا ہے۔
پہلے مرحلے میں دو پروازوں کے ذریعے 350 مسافر امریکہ سے وطن واپس آئیں گے۔ امریکہ میں موجود پاکستانیوں کو لانے کے لیے پی آئی اے کی چھ خصوصی پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔
برطانیہ کے سوا یورپ کے بیشتر ملکوں میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز
فرانس اور اسپین سمیت بیشتر یورپی ملکوں میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے جب کہ برطانیہ نے کرونا وائرس کا مزید پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق فرانس، بیلجیم، یونان اور اسپین میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی پر عمل درآمد شروع ہو گا۔
فرانس میں لگ بھگ آٹھ ہفتوں کے بعد پیر کی صبح سے شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت ہو گی۔ پرائمری اسکول ٹیچرز ایک مرتبہ پھر اسکولوں میں آ گئے ہیں جب کہ ہیئر ڈریسرز سمیت بعض دکانوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود فرانس میں ریستوران، تھیٹرز، سنیما اور بارز بدستور بند رہیں گے۔
پاکستان میں متاثرین کی تعداد 30 ہزار سے بڑھ گئی
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید 28 اموات ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 667 تک پہنچ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید 1476 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ پاکستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ ہونے والے افراد مجموعی تعداد 30 ہزار 941 ہو گئی ہے۔
پاکستانی فوج میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
طورخم سرحد پر کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے تعینات میجر محمد اصغر خود اس مہلک وائرس کا نشانہ بننے کے بعد چل بسے ہیں۔
فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر اصغر پاکستان اور افغانستان کی اہم سرحدی گزرگاہ طورخم پر لوگوں اور سامان کی نقل و حرکت کے دوران کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اسکریننگ کے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔
اس دوران وہ بھی وائرس کا شکار ہوئے جنہیں مرض کی شدت بڑھنے سے سانس لینے میں دشواری پیش آنے لگی تھی جس پر انہیں سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا۔
بیان کے مطابق میجر اصغر کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ میجر محمد اصغر نے کرونا سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کی۔ قوم کی خدمت سے بڑا کوئی کاز نہیں ہے۔