پاکستان میں کیسز کی تعداد 32 ہزار سے زیادہ ہو گئی
ٹوئٹر پر کرونا سے متعلق متنازع معلومات شیئر کرنے والے ہوشیار!
سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'ٹوئٹر' پر اب کرونا وائرس سے متعلق متنازع یا گمراہ کن دعوے نہیں کیے جا سکیں گے اور اگر کسی نے اس کی کوشش بھی کی تو ٹوئٹر اسے پہلے ہی 'خبردار' کر دے گا۔
ٹوئٹر کی جانب سے پیر کو کیے گئے ایک اعلان کے مطابق گمراہ کن معلومات سے صارفین کو بچانے کے لیے ایسا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے جو کرونا وائرس سے متعلق غلط معلومات اور گمراہ کن دعوؤں کو حذف کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔
ٹوئٹر کے مطابق کرونا وائرس کے بارے میں کی جانے والی ہر ٹوئٹ کے نیچے ایک انتباہی پیغام ظاہر ہو گا جو صارف کو خبردار کرے گا کہ یہ معلومات ماہرینِ صحت کی رائے سے متفق نہیں ہو سکتیں لہذا اس پر عمل درآمد سے پہلے ماہرین سے رابطہ کیا جائے۔
ایران میں آج سے تمام مساجد عارضی طور پر کھولنے کا فیصلہ
کرونا وائرس سے متاثرہ ملک ایران میں لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی مرتبہ لگ بھگ دو ماہ بعد تمام مساجد کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایران نے یہ فیصلہ ایسے موقع پر کیا ہے جب ملک بھر میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے 'آئی آر آئی بی' کے مطابق اسلامک ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر محمد قومی کا کہنا ہے کہ تمام مساجد کو کھولنے کا فیصلہ وزاتِ صحت کی مشاورت سے کیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل قومی نے پیر کو کہا تھا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں تین روز کے لیے مساجد کو کھولا جائے گا۔
چین پر کرونا ویکسین کی معلومات ہیک کرنے کا الزام
امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی بیورو (ایف بی آئی) اور سائبر سیکیورٹی ماہرین نے الزام عائد کیا ہے کہ چینی ہیکرز کرونا وائرس کی ویکسین سے متعلق کی جانے والی ریسرچ چرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ ویکسین کی تیاری میں قائدانہ حیثیت رکھتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ہیکرز اس معلومات کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج اور متاثرہ مریضوں کے ٹیسٹ سے متعلق ہیں۔
امریکہ کے دو معتبر اخبار وال اسٹریٹ جرنل اور نیو یارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکومت اور نجی ادارے کرونا ویکسین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ تاہم ایف بی آئی نے دعویٰ کیا ہے کہ ویکسین کی تیاری کے لیے ہونے والی ریسرچ چرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ہیکرز کا تعلق چین کی حکومت سے ہے۔