پشاور ہائی کورٹ 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی پشاور ہائی کورٹ کو 31 مئی تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق عدالتیں، بار رومز، ڈسپنسری سمیت ہائی کورٹ کے دفاتر بھی بند رہیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف دو سنگل بینچ ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔
یہ فیصلہ پشاور ہائی کورٹ میں کرونا کیس سامنے آنے کے بعد کیا گیا ہے۔
اسپین میں بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا
اسپین کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ بیرون ممالک سے آنے والے افراد کو دو ہفتوں تک قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔ تاکہ اسپین میں باہر سے کرونا وائرس کے نئے کیسز سامنے نہ آ سکیں۔
اسپین میں کرونا وائرس کے شدید اثرات کے باعث گزشتہ سات ہفتوں سے لاک ڈاؤن کی سخت پابندیاں عائد رہی ہیں۔
منگل کے روز وزارتِ صحت کے ایک حکم میں کہا گیا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے مسافروں اور اسپین کے باشندوں کے لیے قرنطینہ کی پابندیاں جمعے سے نافذ العمل ہوں گی۔
ان پابندیوں کے دوران لوگوں کو صرف گروسری اور دوائیں خریدنے کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔
چین میں ایسے ہی اقدامات کے ذریعے کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکا گیا تھا۔ تاہم چین میں اب پابندیاں رفتہ رفتہ ہٹائی جا رہی ہیں۔
دنیا بھر کے ملکوں میں اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے نئے اقدامات اختیار کیے جائیں یا پھر لوگوں کو معمول کی زندگی میں لوٹنے کی اجازت دے دی جائے۔ سنگاپور میں آج منگل کے روز حجاموں، بیکریوں اور کپڑے دھونے کی دکانوں کو کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
بھارت میں بھی مارچ کے بعد سے آج پہلی بار ٹرین سروس بحال کی جا رہی ہے۔ تاہم مسافروں کو بخار چیک کرانے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کا پابند بنایا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا میں ان افراد کی تلاش جاری ہے جو دارالحکومت سیول کے نائٹ کلبوں میں گئے تھے جہاں کرونا وائرس سے متاثرہ بہت سے افراد کی نشاندہی ہوئی تھی۔
سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ فون اور کریڈٹ کارڈ کے ڈیٹا سے ایسے لگ بھگ 2,000 افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جائیں۔ مذکورہ نائٹ کلبوں کے 100 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
سماجی پابندیاں ہٹانے سے متعلق ڈاکٹر فاؤچی امریکی کانگریس کو بریفنگ دیں گے
امریکہ میں وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ ترین طبی مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ وہ آج منگل کے روز کانگریس کو تفصیلاً بتائیں گے کہ لاک ڈاؤن کی پابندیاں اس قدر جلد ہٹا لینے سے کتنی خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر فاؤچی نے 'اخبار نیو یارک ٹائمز' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کانگریس کے لیے ان کا بنیادی پیغام یہ ہو گا کہ اگر ملک میں وائٹ ہاؤس کے تین چیک پوائنٹس پر مبنی منصوبے کو نظر انداز کیا گیا تو امریکہ بھر میں کرونا وائرس شدت سے سر اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں زیادہ بیماری اور اموات ہوں گی۔ تاہم یہ ہمیں زندگی کو معمول پر لانے میں مدد دے گا۔
طبی ماہرین کئی ہفتوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ وقت سے پہلے لاک ڈاؤن کی پابندیاں ہٹانے اور کاروبار دوبارہ شروع کرنے میں عجلت سے کرونا وائرس ایک بار پھر شدت سے حملہ آور ہو سکتا ہے۔ جس سے نہ صرف صحت عامہ کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے معیشت کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔
ڈاکٹر فاؤچی آج سینٹ کی صحت، تعلیم، اجرت اور پینشن کمیٹیوں کے روبرو پیش ہوں گے جہاں وہ کام اور اسکول میں محفوظ طریقے سے واپسی کے بارے میں تجاویز پیش کریں گے۔
ڈاکٹر فاؤچی دیگر اعلیٰ طبی مشیروں ڈاکٹر رابرٹ ریڈفیلڈ اور ڈاکٹر سٹیفن ہان کے ہمراہ سینٹ کی کمیٹیوں کے روبرو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بیان دیں گے۔ کیوں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والے اہلکاروں سے رابطے میں رہنے کے بعد از خود آئسولیشن میں ہیں۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 35 کیس رپورٹ
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو مزید 35 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس طرح لداخ سمیت جموں و کشمیر میں کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد 1050 ہو گئی ہے۔ اب تک 10 افراد کی وائرس سے ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
ماہرین کے بقول وبا کے نفسیاتی اثرات بھی لوگوں پر پڑ رہے ہیں۔
شورش زدہ علاقے میں تعینات بھارتی وفاقی پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ایک افسر فتح سنگھ نے مبینہ طور پر اپنی سروس رائفل سے خود کو گولی مار کر خود کشی کی۔ بھارتی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے سنگھ نے اپنے خود کشی نوٹ میں لکھا تھا کہ "میری لاش کو کوئی نہ چھوئے مجھے ڈر ہے کہ میں کرونا میں مبتلا ہو گیا ہوں۔"
حکام کے مطابق بھارت میں پیر کی صبح سے منگل کی دوپہر تک کرونا کے مزید چار ہزار کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔ اس طرح ملک میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 71 ہزار ہو گئی ہے۔ اب تک 2300 افراد وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔