جب تک ویکسین دریافت نہیں ہوتی، اس وبا کے ساتھ ہی جینا ہے: اسد عمر
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ آج ثابت ہو رہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا کرونا کے حوالے سے موقف درست تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ آج دنیا کے مختلف ملک لاک ڈاؤن ختم کر کے معاشی سرگرمیاں بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا کہ اب بھی پاکستان میں اس طرح سے کیسز نہیں بڑھے۔ حالات اب بھی کنٹرول میں ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کرونا نے ابھی مزید پھیلنا ہے، لہذٰا ڈرنے کے بجائے اس وبا کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
جمرود پریس کلب مشتبہ مریض سامنے آنے پر 31 مئی تک بند
پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے علاقے جمرود کا پریس کلب بعض صحافیوں میں کرونا کی علامات سامنے آنے کے بعد 31 مئی تک بند کر دیا گیا ہے۔
پاکستان میں طبی عملے کے ساتھ ساتھ فرنٹ لائن پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔
جمرود پریس کلب کے رکن اور سابق نائب صدر زاہد ملاگوری نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ 36 اراکین میں کرونا کی علامات پائی گئیں۔ جس کے بعد جمعرات سے پریس کلب کو بند کر دیا گیا ہے۔
مشتبہ اراکین نے خود کو گھروں میں آئسولیٹ کر لیا ہے۔ زاہد ملاگوری نے بتایا کہ در اصل پہلے صرف ایک رکن کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ لیکن گزشتہ اتوار کو ایک افطار پارٹی ہوئی، جس کے بعد کئی اراکین میں کرونا کی علامات پائی گئیں۔
جمرود کے علاوہ پشاور کے مختلف صحافتی اداروں سے منسلک 11 افراد میں اب تک وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
پشاور پریس کلب کے سیکریٹری جنرل عمران یوسفزئی نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ متاثرین میں پریس کلب کے نو ممبران بھی شامل ہیں۔ 11 میں سے سات اراکین صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پیرس سے 150 پاکستانیوں کو لے کر خصوصی پرواز پاکستان کے لیے روانہ
کرونا وائرس کے باعث بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔
جمعے کو پیرس سے پی آئی اے کی خصوصی پرواز 150 مسافروں کو لے کر پاکستان کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔
فرانس میں پاکستان کے سفارت خانے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق خصوصی پرواز کا انتظام حکومت پاکستان نے کیا ہے۔ اس پرواز کے ذریعے واپس آنے والوں میں فرانس کے علاوہ وہ پاکستانی شہری بھی شامل ہیں جو بیلجیم، اٹلی، پولینڈ سمیت دیگر یورپی ملکوں میں پھنسے ہوئے تھے۔
سفارت خانے کے مطابق پیرس سے جمعے کو اسلام آباد روانہ ہونے والی پرواز کے ذریعے گزشتہ دنوں وفات پانے والے تین پاکستانی شہریوں کی میتوں کو پاکستان بھیجا جا رہا ہے۔ تاہم بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ پاکستانی کرونا کے باعث ہلاک ہوئے تھے یا نہیں۔
کرونا کی دوا 'ریمڈیسور' پاکستان میں بھی تیار ہو گی: ڈاکٹر طفر مرزا
وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے علاج کے لیے موثر دوا 'ریمڈیسور' اب پاکستان میں بھی تیار ہو گی۔
اُنہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں امریکی دوا ساز کمپنی 'جیلڈ' نے ایک پاکستانی دوا ساز کمپنی سے معاہدہ کیا ہے۔
ظفر مرزا کے بقول آئندہ چھ سے آٹھ ہفتوں میں یہ دوا پاکستان میں دستیاب ہو گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس دوا کے استعمال کے امریکہ میں مثبت نتائج آئے ہیں۔ دوا کے استعمال سے کرونا کے مریضوں کے اسپتال میں قیام کی مدت میں آئی ہے۔
ظفر مرزا کہتے ہیں کہ پاکستان کے علاوہ جنوبی ایشیا کے پانچ ملکوں میں یہ دوا تیار ہو گی۔ البتہ پاکستان میں تیار ہونے والی دوا 127 ملکوں کو ایکسپورٹ بھی کی جا سکے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ انٹی وائرل دوا ہے، جو انجکشن کی صورت میں دستیاب ہو گی۔