وبا نے زندگی کے طور طریقے بدل دیے، موت کے بھی
کرونا وائرس نے جہاں زندگی میں بہت سی تبدیلیاں کی ہیں، وہاں مرنے والوں کی آخری رسومات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں اب لوگوں کی تجہیز و تکفین آن لائن کی جارہی ہے۔ دیکھئے اس رپورٹ میں
کرونا وائرس کی پیشگی اطلاع، عالمی ادارۂ صحت نے کوتاہی تسلیم کر لی
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کرونا وائرس کی پیشگی معلومات کی فراہمی میں کوتاہی کو تسلیم کر لیا ہے اور وبائی مرض سے متعلق اپنے ردِعمل کا آزادانہ جائزہ لینے کی یقین دہائی بھی کرائی ہے۔ تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ادارے کو چین کا 'کٹھ پتلی' قرار دیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کو کرونا وائرس سے متعلق دنیا کو فوری آگاہ نہ کرنے کی تنقید کا سامنا ہے۔ امریکہ نے ادارے پر وبا کے پھیلاؤ کی درست اور فوری معلومات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کی امداد بھی روک رکھی ہے۔
پیر کو ڈبلیو ایچ او کا سالانہ اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے ہوا تو اجلاس کے دوران مختلف ملکوں کے سربراہان اور وزرائے صحت نے ادارے کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
اجلاس میں شریک امریکہ کے وزیرِ صحت الیکس آذر نے کہا کہ ادارہ کرونا وائرس سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور اس کی فراہمی میں مکمل ناکام رہا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ اس وبا کے قابو سے باہر ہونے کی ایک وجہ ڈبلیو ایچ او کی ناکامی ہے۔ جس معلومات کی دنیا کو ضرورت تھی اس کی فراہمی میں یہ ادارہ مکمل ناکام رہا ہے۔
اس موقع پر یورپی یونین نے ایک قرار داد پیش کی جس میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی برادری کا غیر جانب دار، آزادانہ اور جامع جائزہ لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے دوران ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریاسس نے تسلیم کیا کہ کرونا وائرس سے متعلق بعض کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ادارے کے کردار پر نظرثانی کے مطالبے کا بھی خیر مقدم کیا ہے۔
مزید پڑھیے
- By علی عمران
کیا امریکی چہرے کے ماسک کو اپنا معمول بنائیں گے؟
اگر کرونا وائرس کی موجودہ صورت حال میں آپ کو محفوظ انداز میں معمول کی زندگی کی طرف واپس لوٹنا ہے تو عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک پہننے کو ایک معمول بنانا ہو گا۔
ایک حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق کوویڈ 19 کی دوا کی عدم موجودگی میں اگر زیادہ تر لوگ چہرے کا ماسک پہنیں تو کرونا وائرس کے کیسز میں 80 فیصد کمی واقع ہوتی ہیں۔
یوسی برکلے کے بین الاقوامی کمپیوٹر سائنس انسٹی ٹیوٹ اور ہانگ کانگ کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹی کی شراکت سے کی جانے والی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ سماجی فاصلوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ لوگوں کا چہرے پر ماسک پہننا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا مؤثر ترین طریقہ ہے۔
تحقیقی ٹیم کے رہنما ڈاکٹر ڈی کائی کہتے ہیں کہ اگر 80 فیصد عوام ماسک پہن لیں تو کوویڈ 19 کے کیسز میں بارہ گنا کمی ہوتی ہے۔
ماہرین اس حوالے سے جاپان اور امریکہ میں متضاد صورت حال کا موازنہ کرتے ہیں۔ جاپان میں لاک ڈاؤن کی کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن وہاں تقریباً تمام لوگ عوامی جگہوں پر چہرے پر ماسک پہنتے ہیں۔
شمالی امریکہ میں کرونا وائرس سے ایک لاکھ اموات
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں اموات میں پیر کو کمی دیکھنے کو ملی لیکن شمالی امریکہ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ ہو گئی۔ جنوبی امریکہ کے ملکوں میں بھی کیسز اور اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور پرو جیسا چھوٹا ملک مریضوں کی تعداد میں چین سے آگے نکل گیا ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق 213 ملکوں اور خودمختار خطوں میں پیر تک کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 48 لاکھ 70 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 3 لاکھ 19 ہزار تک پہنچ چکی تھی۔
24 گھنٹوں کے دوران برازیل میں 252، برطانیہ میں 160، پرو میں 141، میکسیکو میں 132، بھارت میں 131، فرانس میں بھی 131، اٹلی میں 99 اور روس میں 91 مریض دم توڑ گئے۔
امریکہ میں پیر کی شام تک 700 اموات کا علم ہوا تھا جس کے بعد مجموعی تعداد 91 ہزار سے زیادہ ہو گئی تھی۔ شمالی امریکہ میں کینیڈا اور میکسیکو دونوں میں اموات کی تعداد 5 ہزار سے زیادہ ہے۔
امریکہ کے 18 ریاستوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد کرونا وائرس میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوچکے ہیں۔ نیویارک 28 ہزار اور نیوجرسی 10 ہزار اموات کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ نیویارک میں کیسز کی تعداد ساڑھے تین لاکھ اور نیوجرسی میں ڈیڑھ لاکھ ہوچکی ہے۔
برازیل میں 16 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بڑے شہروں کے اسپتال مزید مریضوں کو نہیں سنبھال پائیں گے۔ وہاں کیسز کی تعداد 2 لاکھ 45 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ جنوبی امریکہ کے دوسرے ملکوں میں پرو میں 94 ہزار، چلی میں 46 ہزار اور ایکویڈور میں 33 ہزار کیسز کا علم ہو چکا ہے۔
مجموعی طور پر امریکہ میں مریضوں کی تعداد 15 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر روس میں 2 لاکھ 90 ہزار کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ 2 لاکھ سے زیادہ کیسز والے دوسرے ملکوں میں اسپین، برطانیہ، برازیل اور اٹلی شامل ہیں۔
دنیا بھر میں لگ بھگ 19 لاکھ افراد کرونا وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ان میں امریکہ کے ساڑھے تین لاکھ، اسپین کے ایک لاکھ 96 ہزار، جرمنی کے ایک لاکھ 54 ہزار، اٹلی کے ایک لاکھ 27 ہزار اور ترکی کے ایک لاکھ 11 ہزار شہری شامل ہیں۔