رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

10:13 22.5.2020

پنجاب میں آج سے تمام مارکیٹیں رات 10 بجے تک کھلی رہیں گی

فائل فوٹو
فائل فوٹو

حکومتِ پنجاب نے جمعے سے تمام مارکیٹیں اور شاپنگ مالز رات 10 بجے تک کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ صوبائی حکومت کی طرف سے زائرین کے لیے مزارات بھی کھول دیے گئے ہیں۔

صوبائی وزیر تجارت میاں اسلم اقبال نے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار کی منظوری کے بعد عید کی خریداری کے لیے مارکیٹوں کے اوقات میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

صوبائی حکومت کے فیصلے کے مطابق پنجاب بھر میں چاند رات تک مارکیٹوں کے اوقات کار صبح نو بجے سے رات دس بجے تک ہوں گے۔

یاد رہے کہ پنجاب میں کرونا وائرس کے اب تک اٹھارہ ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ اس وبا سے صوبے میں 310 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

08:27 22.5.2020

امریکہ کا طبی عطیہ کرنے پر پاکستان کا خیر مقدم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ نے پاکستان کی جانب سے سرجیکل ماسک اور کرونا وائرس کے حفاظتی لباس کا عطیہ دینے پر خیرمقدم کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کرونا وائرس سے بچاؤ کا حفاظتی سامان بھیجنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ماسک اور حفاظتی لباس ارسال کرنا کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں یکجہتی کی علامت ہے جس میں ہم ایک ساتھ ہیں۔

03:55 22.5.2020

کیا امریکہ میں کرونا وائرس کی بر وقت روک تھام ممکن تھی؟

کسی بھی صورتِحال سے نمٹنے کیلئے بر وقت ضروری اقدامات بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ کرونا وائرس کی وبا سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کے متاثر ہونے اور موت کا شکار ہونے کے بعد اب اس بارے میں بھی بات ہو رہی ہے کہ آیا اس وبا سے بچنے کے اقدامات بر وقت کئے گئے تھے؟

اخبار 'دی نیو یارک ٹائمز' نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اگر امریکہ میں سوشل ڈسٹینسنگ یا سماجی فاصلے کا آغاز اس سے ایک ہفتہ پہلے کر دیا جاتا جب مارچ کے مہینے کے وسط میں امریکی ریاستوں میں لوگوں کو گھروں میں بند ہو کر رہنے کیلئے کہا گیا تو چھتیس ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

امریکہ میں صحتِ عامہ کے عہدیدار فروری کے اوائل میں ہی کرونا وائرس سے خبردار کر رہے تھے۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ سان فرانسسکو میں بڑی کمپنیوں کے مالکان اپنے ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ریاست واشنگٹن میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ باقی دنیا کی بات کیجئے تو یہی وقت تھا جب جنوبی کوریا، ویت نام اور دیگر ممالک کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے سخت اقدامات کر رہے تھے۔

مزید پڑھیے

03:52 22.5.2020

کرونا وائرس: نیویارک کے ویران ریستوران گاہکوں کی راہ تک رہے ہیں

کرونا وائرس کی عالمی وبا نے دنیا بھر میں اقتصادی شعبے میں جس طرح تباہی مچائی ہے وہ تصور سے باہر ہے۔ کرہ ارض کے تمام ممالک یکساں طور پر اس سے شدید متاثر ہوئے ہیں چاہے وہ کسی خطے ہی میں کیوں نہ واقع ہوں۔

بعض ترقی پزیر ملکوں میں فاقہ کشی کی نوبت آپہنچی ہے اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ، چاہے ان کا تعلق امیر ملکوں سے ہو یا غریب ملکوں سے، بیروزگاری کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس صورت میں مستقبل کے لئے کوئی اچھی پیش گوئی محال ہے اور بے یقینی اور مایوسی کے بادل بدستور چھائے ہوئے ہیں۔

بہت سے شہر جہاں ہر وقت چہل پہل رہتی تھی اور جو اقتصادی مواقع اور خوشحالی کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب اپنی رونقوں سے گویا محروم ہوگئے ہیں۔ ان میں نیویارک کا شہر بھی شامل ہے جہاں زندگی کا ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔

نیویارک شہر کے ریستوران بھی ان میں شامل ہیں، جو اپنی گہما گہمی اور انواع و اقسام کے کھانوں کے لئے مشہور تھے، اب ویرانی کا منظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کاروبار عملاً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG