رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

04:09 23.5.2020

کرونا وائرس: آٹھ کروڑ بچوں کو حفاظتی ویکسین نہیں دی جا سکی

کرونا وائرس جہاں زندگی کے روزمرہ کے معمولات اثرانداز ہوا ہے، وہاں بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں بھی خلل پڑا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ 8 کروڑ بچوں کو خسرہ، پولیو اور ہیضے سے بچاؤ کے ٹیکے نہیں لگ پا رہے، جس سے ایک سال سے کم عمر بچوں کی صحت کے لیے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

جمعے کے روز جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صحت کے عہدے داروں نے خبردار کیا ہے کہ 129 ملکوں میں سے نصف سے زیادہ میں حفاظتی ٹیکوں کے مارچ اور اپریل کے پروگرام پر عمل نہیں ہو سکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریسس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عالمی وبا کرونا وائرس کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں خلل پڑ گیا ہے، جس سے خسرہ جیسی بیماریوں سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی عشروں سے جاری کوششوں کے لیے خطرات پیدا ہو گئی ہیں۔

ایک اور عالمی ادارے یونیسیف نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کے 40 سے زیادہ ملکوں میں بچوں کے لیے حفاظتی ویکسین فراہم نہیں کی جا سکی، کیونکہ براعظم کے 54 ملکوں نے کوویڈ 19 کی وجہ سے اپنے ایئرپورٹ بند کر دیے ہیں جس کی وجہ سے فلائٹس دستیاب نہیں ہیں۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ دنیا کے 38 ملکوں میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے 46 پروگرام معطل کر دیے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق افریقی ملکوں سے ہے۔ جب کہ 27 ملکوں میں خسرہ سے بچاؤ کے ٹیکوں کی مہم بھی معطل کر دی گئی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو دو سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اپریل میں ڈبلیو ایچ او، اور اس کے شراکت داروں نے کرونا وائرس کے باعث پولیو سے بچاؤ کی ویکیسن کی مہم معطل کر دی تھی جس سے پانی سے پھیلنے والے اس وبائی مرض کے دوبارہ ابھرنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

پولیو پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ 90 فی صد سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں۔ یہ کام بہت بڑے پیمانے پر کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد کی مدد سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ لیکن کرونا سے بچاؤ کے لیے سماجی فاصلے قائم رکھنے کی پابندی سے یہ مہم بھی التوا کا شکار ہو چکی ہے۔

افریقہ کے ایک درجن سے زیادہ ملکوں نے اس سال پولیو کے واقعات دوبارہ ظاہر ہونے کی اطلاع دی ہے، جب کہ اس سے قبل طبی ماہرین یہ توقع کر رہے تھے کہ سن 2000 میں پولیو کا دنیا سے خاتمہ ہو جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے دنیا کے ملکوں کے لیے یہ ہدایت جاری کرے گا کہ وہ کرونا وائرس کے دوران بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا پروگرام کس طرح جاری رکھ سکتے ہیں۔

04:06 23.5.2020

سپین میں کرونا وائرس کی دوسری لہر، اموات میں اضافہ

اسپین میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد کرونا وائرس سے ایک دن میں ساڑھے چھ سو اموات ہوئی ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یورپی ملک کو وبا کی دوسری لہر کا سامنا ہے۔

ادھر برازیل میں دوسری بار ایک دن میں 110 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، جبکہ بھارت میں ایک دن میں ریکارڈ تعداد میں کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق، دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد جمعہ کو 52 لاکھ 80 ہزار اور اموات 3 لاکھ 38 ہزار سے زیادہ ہوچکی تھیں۔

24 گھنٹوں کے دوران برازیل میں 1188، اسپین میں 688، میکسیکو میں 420، برطانیہ میں 351، روس میں 150، بھارت میں 142، اٹلی میں 130 اور ایکویڈور میں 117 مریض چل بسے۔

امریکہ میں جمعہ کی شام تک 1179 ہلاکتوں کی خبر آچکی تھی جس کے بعد کل تعداد ساڑھے 97 ہزار سے بلند ہوچکی ہے۔ ملک میں کیسز کی تعداد 16 لاکھ 40 ہزار سے زیادہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس سے بڑی تعداد میں اموات کی وجہ سے قومی پرچم تین دن تک سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور اسپین کے بعد برازیل چھٹا ملک ہے جہاں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 20 ہزار سے زیادہ ہوچکی ہے جبکہ امریکہ اور روس کے بعد وہ صرف تیسرا ملک ہے جہاں تین لاکھ سے زیادہ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان تمام ممالک سے زیادہ کیسز اور ہلاکتیں صرف ایک امریکی ریاست نیویارک میں سامنے آچکی ہیں۔ وہاں مریضوں کی کل تعداد 3 لاکھ 67 ہزار اور اموات کی تعداد 29 ہزار سے زیادہ ہے۔

بھارت میں وزارت صحت کے مطابق، 24 گھنٹوں میں چھ ہزار سے زیادہ مریضوں کی تصدیو ہوئی جو ملک میں ایک دن میں معلوم ہونے والے کیسز کا نیا ریکارڈ ہے۔

اب تک دنیا بھر میں 21 لاکھ 40 ہزار افراد کرونا وائرس سے شفایاب ہوچکے ہیں جن میں امریکہ کے لگ بھگ چار لاکھ شہری شامل ہیں۔ مزید جن ملکوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد صحت یاب ہوئے ہیں ان میں اسپین، جرمنی، اٹلی، برازیل، ترکی اور ایران شامل ہیں جبکہ روس میں یہ تعداد 99 ہزار ہے۔

14:35 22.5.2020

14:32 22.5.2020

'کرونا وائرس کی دوسری لہر آتی ہے تو امریکہ کو بند نہیں کریں گے'

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر کرونا وائرس کی دوسری لہر آتی ہے تو وہ امریکہ کو بند نہیں کریں گے۔ صدر نے کرونا وائرس سے متعلق خدشات کے باوجود امریکہ کی تمام ریاستوں میں کاروبار دوبارہ کھولنے پر بھی زور دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مستقل لاک ڈاؤن کسی ریاست یا ملک کی حکمت عملی نہیں ہو سکتی۔

ریاست مشی گن میں وینٹی لیٹرز کی تیاری میں تبدیل میں ہونے والے فورڈ موٹر کمپنی پلانٹ کے دورے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ "لوگ ان ریاستوں میں پابندیوں کو نہیں مانیں گے جو معمولات زندگی بحال نہیں کر رہیں۔"

صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ملک کرونا وائرس کے بعد ایک بھرپور واپسی کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ کرونا وائرس کے سبب امریکی معیشت زوال کا شکار ہے اور پچھلے نو ہفتوں کے دوران تین کروڑ 86 لاکھ امریکیوں نے بیروزگاری الاؤنس کے لیے درخواست دی ہے۔

امریکہ کی تمام 50 ریاستوں نے کئی ہفتوں کی بندش کے بعد جزوی طور پر کاروبار کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہم اپنے گرجا گھر کھولنے جا رہے ہیں، ہم اپنا ملک کھولنے جا رہے ہیں۔"

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG