چین میں کوئی کیس سامنے نہیں آیا
چین میں کرونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا۔ حکام کے مطابق 22 مئی کو وبا سے کسی بھی شخص کے متاثر ہونے کی تشخیص نہیں ہوئی۔
چین کے شہر ووہان میں گزشتہ سال دسمبر میں کرونا وائرس سامنے آنے کے بعد یہ پہلا دن ہے جب ملک بھر میں کرونا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق صرف دو مشتبہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے ایک جیلان صوبے اور دوسرا شنگھائی میں سامنے آئے۔
کمیشن کا مزید کہنا ہے کہ مشتبہ کیسز سامنے آنے کی تعداد میں بھی کمی آ چکی ہے۔
امریکہ میں تین دن کے لیے پرچم سرنگوں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکم دیا ہے کہ امریکہ میں تین دن کے لیے پرچم سرنگوں رہے گا۔
انہوں نے یہ حکم کرونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں دیا ہے۔
وائرس سے چھیانوے ہزار سے زائد امریکی ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ سولہ لاکھ میں وبا سے متاثر ہوئے ہیں۔
امریکی بحری بیڑا روزویلٹ دو ماہ بعد ایک بار پھر گہرے پانیوں میں
امریکہ کا بحری بیڑا یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ دو ماہ بعد ایک بار پھر گہرے پانیوں میں رواں دواں ہے۔
بحری بیڑے میں گیارہ سو اہلکاروں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ وائرس سے بیڑے پر موجود ایک اہلکار کی موت بھی ہوئی تھی۔ جس کے بعد بیڑے کو گوام پر موجود امریکی بیس تک لے جایا گیا جہاں بیڑے پر موجود پانچ ہزار اہلکاروں کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے گئے۔
ان میں سے اب بھی پندرہ سو اہلکار گوام میں امریکی بیس پر موجود ہیں۔ ان میں سے سات سو اہلکار ایسے ہیں جن میں وبا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
وبا سے بچنے کے لیے بنکروں کی خریداری میں اضافہ
کرونا وائرس کی وبا سے سبھی پریشان ہیں لیکن کچھ لوگ زیادہ خوف کا شکار ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے رئیل سٹیٹ ایجنٹس کہتے ہیں کہ ان کے بعض کلائینٹس اتنے فکرمند ہیں کہ زیادہ محفوظ پناہ گاہیں ڈھونڈ رہے ہیں۔ مزید اس رپورٹ میں