رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

02:39 27.5.2020

ابھی وبا کی پہلی لہر چل رہی ہے، دوسری بھی آئے گی، عالمی ادارہ صحت

عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ابھی تک کرونا وائرس وبا کی پہلی لہر چل رہی ہے اور دنیا اس سے باہر نہیں نکلی جبکہ دوسری لہر بھی آئے گی۔

ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر مائیک رائن نے پیر کو کہا کہ ہم عالمی سطح پر وبا کی پہلی لہر کے بیچ میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہم ابھی تک اس مرحلے میں ہیں جس میں بیماری زور پکڑ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی امریکہ، جنوبی ایشیا اور دوسرے خطوں میں کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ بیماری کسی بھی وقت قابو سے باہر ہوسکتی ہے۔ شمالی امریکہ، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور دوسرے خطوں کو اپنے اقدامات میں نرمی کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔

ڈاکٹر رائن عالمی ادارہ صحت کے ہنگامی پروگراموں کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے وبا کی دوسری لہر سے مہینوں پہلے انتباہ جاری کیا جس سے ان لوگوں کے خدشات کو تقویت ملی جو کاروبار جلدی کھولنے کی مخالفت کررہے ہیں۔

دنیا میں سے زیادہ کیسز اور اموات والے ملک امریکہ میں پیر میموریل ڈے کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ باہر نکلے اور ساحل سمندر اور عوامی پارکس میں دکھائی دیے۔

مزید پڑھیے

02:29 27.5.2020

اٹلی میں کرونا وائرس سے خبردار کرنے والی ایپ تیار

اٹلی کے متعدد علاقوں میں جلد ایک موبائل ایپ متعارف کرائی جائے گی جس سے کرونا وائرس میں مبتلا افراد کا علم ہوسکے گا۔ یہ ملک بھر میں ہر شخص کو دستیاب ہوگی اور لوگ اسے رضاکارانہ طور پر استعمال کریں گے جبکہ ان کی شناخت ظاہر نہ ہونے ضمانت ہوگی۔

اس ایپ کا نام 'امیونی' رکھا گیا ہے اور اسے اٹلی کی وزارت آئی ٹی کی تجویز پر بنایا گیا ہے۔

اسے تیار کروانے والے حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایپ 29 مئی سے موبائل فون میں ڈاؤن لوڈ کی جاسکے گی۔ اس کی مدد سے کرونا وائرس میں مبتلا افراد اور ان سے رابطے میں آنے والے لوگوں کے بارے میں جاننے میں تیزی آسکے گی۔

وزارت کے چیف ٹیکنالوجی افسر پاؤلو ڈی روزا نے کہا کہ یہ ایپ روایتی طریقوں سے مختلف ہے جن میں آپ کو لوگوں کو شناخت کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایپ صرف خبردار کرے گی کہ آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں آنے والے ہیں جو کرونا وائرس میں مبتلا ہے۔

اس ایپ کی بدولت لوگ یہ جان سکیں گے کہ وہ وائرس سے محفوظ ہیں یا کسی خطرے کی زد میں آچکے ہیں۔ عام صورتوں میں لوگ لاعلم رہتے ہیں اور بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر انھیں پتا چلتا ہے۔ اب وہ کرونا وائرس میں مبتلا مریض سے رابطے میں آتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرسکیں گے۔

ڈی روزا نے کہا کہ یہ ایپ نجی معلومات کا تحفظ کرتی ہے اور سے یقینی بنانے کے لیے خاص اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس ایپ کو استعمال کرنے والوں کو شناخت کرنا بے حد مشکل ہوگا۔ صارف کو محض اتنا بتانا پڑے گا کہ وہ کس علاقے کا رہنے والا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ایپ کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم 60 فیصد لوگ اسے استعمال کریں۔ بہرحال یہ کارآمد شے اور دنیا میں بہت کم ملک یہ ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔

ڈی روزا کے مطابق، ایسی ایپ کا بنانا آسان نہیں تھا اور اس کے لیے محکمہ صحت کے حکام اور نجی معاملات کے تحفظ کے ماہرین سے مدد لی گئی۔ کئی دوسرے ملکوں سے معلومات کا تبادلہ بھی کیا گیا۔ لیکن کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ اس سلسلے کی بہترین ایپ کیسی ہوسکتی ہے۔ اس قدر تیزی سے پھیلنے والے وائرس کو روکنے کے لیے ایسی ہی ایپ درکار تھی جو اتنی ہی تیزی سے وائرس کی زد میں آنے والوں کا پتا چلاسکے۔

02:28 27.5.2020

پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے

پاکستان میں لاک ڈاؤن تقریباً ختم ہونے اور لوگوں کی جانب سے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کئے جانے کے سبب کرونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، خاص طور پر ان مریضوں کی تعداد میں جن کی حالت نازک ہوتی ہے، جنہیں شدید بیمار کہا جاتا ہے۔

پاکستان میں ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری، ڈاکٹر سلمان کاظمی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اسپتالوں میں آئی سی یو یونٹ بھرے ہوئے ہیں، بیڈز بھرے ہوئے ہیں۔ ایمرجنسی میں ان مریضوں کے لئے جگہیں مختص کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ باہر نکلنے والے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے اور اگر صورت حال اسی طرح رہی تو آئندہ دس سے پندرہ دن میں یہ تعداد بہت بڑھ سکتی ہے اور پھر دوبارہ لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی چارہ کار باقی نہیں رہے گا، جس کا حکومت بھی عندیہ دے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اہم بات یہ دیکھنے میں آرہی ہے کہ جن لوگوں کو ان وینٹی لیٹر پر رکھا جاتا ہے، جن میں گلے کے اندر ٹیوب ڈالی جاتی ہے، ان کے بچنے کی شرح بہت کم ہے، جبکہ ان مریضوں کے بچنے کی شرح زیادہ ہے جنہیں ان وینٹی لیٹرز پر رکھا جاتا ہے، جس میں چہرے پر ماسک لگایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر کاظمی نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور سے نوجوان جو باہر سے بیماری لے کر گھر آجاتے ہیں اور اپنے بزرگوں اور ان لوگوں کو لگاتے ہیں جو ہائی رسک گروپ میں ہیں۔

02:25 27.5.2020

بھارتی کشمیر: کرونا کے مریضوں میں بتدریج اضافہ

منگل کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید 91 افراد میں کرونا وائرس یا کووڈ-19 کی تشخیص ہوئی، جس کے ساتھ ہی لداخ سمیت سابقہ ریاست میں مریضوں کی تعداد بڑھ کر 1800 ہوگئی ہے۔

منگل کو ایک اور شخص کی موت واقع ہونے کے بعد وائرس کا شکار ہو کر لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ 91 تازہ مثبت کیسز میں سے 54 کا تعلق جموں خطے سے اور باقی ماندہ 37 کا وادی کشمیر سے ہے۔ لداخ میں ساٹھ کے قریب لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں۔

تاہم، عہدیداروں نے یہ بات دہرائی ہے کہ کووڈ-19 کے مُثبت کیسز میں تقریباً نصف صحت یاب ہوگئے ہیں اور انہیں اسپتالوں سے گھر بھیج دیا گیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کووڈ-19 مریضوں کی تعداد میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس لیے نمایاں اضافہ دیکھنے کو آیا، کیونکہ نئے مثبت کیسز میں زیادہ تر وہ مقامی لوگ شامل ہیں جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھارت کی مختلف ریاستوں اور بیرونی ممامک میں تقریباً دو ماہ تک باہر رہنے کے بعد بھارتی زیرِ انتظام کشمیر لوٹے ہیں۔

ایسے افراد کو ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور بس اڈوں سے سیدھے قرنطینہ مراکز پہنچایا جا رہا ہے، جہاں ان کے لیے چودہ دن گزارنے کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہر ایک شخص میں مرض کی تشخیص کے لیے نمونے حاصل کیے جاتے ہیں اور مُثبت نتائج کی صورت میں اُنھیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جاتا ہے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG