کرونا وائرس سے یورپ میں 175000 اموات ہوئیں ہیں، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے جمعرات کے روز اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ مارچ کے آغاز سے اب تک یورپ کے 24 ملکوں میں ایک لاکھ 59 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں، جس میں زیادہ تر کا تعلق کوویڈ 19 کے پھیلاؤ سے ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی ایک عہدے دار کیٹی سمال وڈ نے نامہ نگاروں کو ٹیلی لنک پر ایک بریفنگ میں بتایا کہ یورپی ملکوں میں یہ تمام اموات ایک ایسے وقت میں ہوئیں جب وہاں عالمی وبا کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہی تھی اور فرانس، اٹلی، سپین اور برطانیہ کے اسپتالوں میں مریض کرونا انفکشن سے مر رہے تھے۔
سمال وڈ کا کہنا تھا کہ اس کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ان اموات کے ایک بڑے حصے کا تعلق کوویڈ 19 سے تھا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دوسرے امراض کنٹرول میں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے یورپ کے لیے ریجنل ڈائریکٹر ہانز کلوگ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپ میں کرونا وائرس کے 20 لاکھ سے زیادہ مصدیقہ مریض ہیں۔یہ تعداد گزشتہ دو ہفتوں کے مقابلے میں 15 فی صد زیادہ ہے۔ جب کہ روس، ترکی، بیلاروس اور برطانیہ میں دوسرے یورپی ملکوں کی نسبت یہ وبا زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
عالمی وبا کے آغاز سے اب تک کوویڈ 19 یورپ میں ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ افراد کو موت کے منہ میں دھکیل چکا ہے۔
سمال وڈ کا کہنا تھا کہ جو یورپی ممالک لاک ڈاؤن کی پابندیاں نرم کر رہے ہیں اور شراب خانوں سمیت دوسرے عوامی مقامات کھول رہے ہیں، انہیں کرونا وائرس کی تشخیص، ٹیسٹنگ اور ان جگہوں کا کھوج لگانے کے نظاموں کو ترقی دینی ہو گی جہاں سے وائرس دوبارہ شروع ہوا ہو، تاکہ وائرس کی دوسری لہر کے خطرے سے تیزی سے نمٹا جا سکے۔
صحت کے ماہرین یہ انتباہ کر چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن نرم کرنے کے بعد اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو کوویڈ 19 کی دوسری لہر زیادہ مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
وائرس پھیلانے کا الزام: بھارت میں 376 تبلیغی اراکین پر فرد جرم عائد
بھارت میں کرونا وائرس پھیلانے کے الزام میں تبلیغی جماعت کے 376 غیر ملکی اراکین کے خلاف فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔
نئی دہلی پولیس نے جمعرات کو 34 ملکوں سے تعلق رکھنے والے 376 غیر ملکی اراکین پر فرد جرم عائد کی ہے۔ تبلیغی جماعت نے مارچ میں نظام الدین مرکز میں تبلیغی اجتماع منعقد کیا تھا۔
بھارتی حکام نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس اجتماع کے باعث ملک میں کرونا وائرس تیزی سے پھیلا۔
پولیس نے بھارت میں تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا محمد سعد کاندھلوی کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ البتہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی تھی۔
پولیس نے تبلیغی جماعت سے وابستہ 376 غیر ملکی اراکین کے خلاف جو کہ 34 ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں، 35 فرد جرم داخل کی ہیں۔
سندھ میں کرونا وائرس سے بچے تیزی سے متاثر ہو رہے ہیں
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مئی کے مہینے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں یکم مئی کو وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 18 ہزار 114 تھی لیکن 28 مئی کو جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 43 ہزار نئے کیسز کا اضافہ ہوا ہے اور اب تک مجموعی طور پر 61 ہزار سے زائد افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔
کیسز کی سب سے زیادہ تعداد یعنی 24 ہزار سے زائد صوبہ سندھ میں ہے جب کہ اموات کی تعداد اب تک خیبر پختونخوا میں زیادہ رہی ہے جہاں جمعرات کی صبح تک وائرس سے 425 ہو چکی ہیں۔
ادھر محکمہ صحت سندھ کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ایک اور خطرناک رحجان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بچوں میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
اعداو شمار کے مطابق 2 مئی کو کرونا وائرس سے متاثرہ 10 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد 253 تھی لیکن محض 20 روز میں اس تعداد میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ کر 788 ہوگئی۔
قندھار میں ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹری میں تیکنیکی خرابی
افغانستان کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 580 نئے کیسز کے ساتھ ملک میں مریضوں کی کل تعداد 13036 ہو گئی ہے۔
حکام کے مطابق ان میں قندھار کی کرونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی لیبارٹری میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے اس شہر کے اعدادو شمار شامل نہیں ہیں۔
وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 235 ہو گئی ہے۔