امریکہ میں جاری مظاہروں سے کرونا وائرس کی ایک اور لہر کا خطرہ
امریکہ میں صحت کے حکام نے انتباہ کیا ہے کہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے کرونا وائرس کا حملہ ایک بار پھر زور پکڑ سکتا ہے۔ یہ مظاہرے ایک افریقی امریکی جارج فلائیڈ کی پولس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف ملک گیر سطح پر ہو رہے ہیں۔
حالیہ چند دنوں سے امریکہ کے کئی شہروں میں افریقی امریکی شہری جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ ان میں شامل افراد کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ بہت کم مظاہرین ماسک پہنتے ہیں اور ایک دوسرے سے دوری کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔
چند لیڈر مظاہرین سے پر امن رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور انہیں بتا رہے ہیں کہ اس طرح وہ اپنی زندگیوں کے لیے خود خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس سے خیبر پختونخوا میں مزید دو ڈاکٹروں کی اموات
خیبر پختونخوا کے دو مزید ڈاکٹر مہلک کرونا وبا سے اپنی جان کی بازی ہار گئے۔ پشاور میں پولیس سروسز اسپتال کے سینئیر پیتھالوجسٹ ڈاکٹر اورنگزیب آج حیات آباد میڈیکل کمپلکس میں کرونا وبا سے لڑتے ہوئے انتقال کر گئے۔
وہ کئی روز سے انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹی لیٹر پر تھے، لیکن جانبر نہ ہو سکے۔ ڈاکٹر اورنگزیب کو نوشہرہ کے علاقے چراٹ میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
چارسدہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد اعظم اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں دم توڑ گئے۔ ڈاکٹر محمد اعظم ڈسٹرکٹ اسپتال نوشہرہ میں شعبہ اطفال کے سربراہ رہ چکے ہیں اور وہ آج کل نوشہرہ میں نجی کلینک چلاتے تھے۔ ڈاکٹر محمد اعظم کو چارسدہ میں ان کے آبائی علاقے میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی محمود خان نے ڈاکٹر اورنگزیب اور ڈاکٹر محمد اعظم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں سمیت فرنٹ لائن پر خدمات انجام دینے والے دیگر طبی عملے کی خدمات اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
ترکی نے مساجد کے دروازے کھول دیے، نماز جمعہ کے اجتماعات
کرونا وائرس ہر چند کہ ختم نہیں ہوا ہے اور دنیا میں اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ بھی ہو رہا ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دنیا اب اس وائرس کے ساتھ جینا سیکھ رہی ہے۔
دنیا کے بیشتر ممالک اب کاروبار زندگی کو معمول پر لانے اور اپنی معیشت کو ضروری حفاظتی اقدامات کے ساتھ دوبارہ کھولنے کے اقدامات کر رہے ہیں جن میں اب ترکی بھی شامل ہو گیا ہے۔
وائس آف امریکہ کے نامہ نگار بیزہان ہمدرد نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دس ہفتوں کی بندش کے بعد ترکی میں نماز جمعہ کے لئے مسجدوں کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اور ملک بھر کی مساجد میں لوگوں نے جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔
تاہم 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو مساجد میں جانے کی اجازت نہیں تھی، لیکن پھر بھی بہت سے بزرگ نماز کی ادائیگی کے لئے مسجدوں میں جا پہنچے۔
- By روشن مغل
پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں مزید 21 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 21 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی، جب کہ 168مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اب تک 6115 افراد کے کرونا وائرس ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور 255 افراد میں وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے، جن میں سے 168 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں اور انہیں ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
81 مریض ابھی زیر علاج ہیں اور 6 مریضوں کی اموات ہو چکی ہیں، جن میں سے 5 کا تعلق مظفرآباد اور ایک کا میرپور سے ہے۔