- By شمیم شاہد
کرونا وائرس کو شکست دینے والے رکنِ قومی اسمبلی چل بسے
قبائلی ضلع کرم سے تعلق رکھنے والے رکنِ قومی اسمبلی میاں منیر اورکزی انتقال کر گئے ہیں۔ وہ حال ہی میں کرونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد صحت یاب ہوئے تھے۔
میاں منیر کے بھتیجے عرفان اللہ نے منگل کو ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ میاں منیر کو نمازِ فجر کی ادائیگی کے لیے جگانے کی کوشش کی تو وہ نہ اٹھ سکے جس پر انہیں قریبی اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق منیر اورکزی کا انتقال حرکتِ قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوا ہے۔
چند ہفتے قبل منیر اورکزئی کرونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے مگر بعد میں ڈاکٹروں نے انہیں صحت یاب قرار دیا تھا۔
سنگاپور: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اسکول کھل گئے
سنگا پور میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لگ بھگ دو ماہ کے وقفے سے اسکول کھل گئے ہیں۔
اسکول آنے والے طلبہ ماسک پہن کر اسکول پہنچے کو ان کے جسم کا درجہ حرارت چیک کیا گیا جب کہ کلاسز میں بھی طلبہ کو فاصلے سے بٹھایا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ معمولاتِ زندگی آہستہ آہستہ بحال کیے جا رہے ہیں۔ منگل سے پالتو جانوروں کے سیلون، شادی ہالز اور بعض دیگر کاروبار کھول دیے گئے ہیں۔
پاکستان میں ایک روز میں ریکارڈ کیسز
پاکستان میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران پہلی مرتبہ 3938 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ اس وائرس میں مبتلا مزید 78 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1621 تک پہنچ گئی ہے۔ اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی مجموعی تعداد 76 ہزار 398 ہے جس میں سے 27 ہزار 110 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں اب تک پانچ لاکھ 77 ہزار 974 افراد کے کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ صرف پیر کو 16 ہزار 548 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی پر خدشات
پاکستان میں مئی کے مہینے میں کوویڈ 19 سے متاثرہ افراد کی تعداد جس انداز سے بڑھی ہے، اس نے صحت کے عہدیداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے ۔
ڈاکٹر عمر ایوب خان پاکستان میں سارک کی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ہیں، کامن ویلتھ میڈیکل ٹرسٹ ہیلتھ انیشییٹیو پاکستان کے ڈائریکٹر اور امریکن میڈیکل سوسائٹی کے رکن اور رائل سوسائٹی آف میڈیسن، یونائیٹڈ کنگڈم کے اوور سیز فیلو بھی رہ چکےہیں۔ اس وقت پبلک ہیلتھ کے ایک اہم عہدیدار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔
وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کوویڈ 19 کے مریضوں میں جس تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اسے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کا صحت کا نظام اسے برداشت نہیں کر پائے گا۔
ڈاکٹر عمر خان نے توجہ دلائی کہ پاکستان میں مارچ کے مہینے میں جس وقت کرکٹ کے لیگ میچ ہو رہے تھے، کوویڈ 19 کا خطرہ اس وقت ظاہر ہو چکا تھا مگر تب بھی ہزاروں تماشائی کھیل دیکھنے کیلئے موجود تھے۔ اور بہت بعد میں یہ سلسلہ روکا گیا۔