- By شمیم شاہد
رکنِ خیبر پختونخوا اسمبلی جمشید الدین کرونا سے ہلاک
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکنِ اسمبلی میاں جمشید الدین کاکا خیل کرونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ ان کا تعلق حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف سے تھا
جمشید الدین ایک ہفتے سے اسلام آباد کے اسپتال میں زیرِ علاج تھے اور گزشتہ تین روز سے وینٹی لیٹر پر تھے۔
میاں جمشید کو کرونا وائرس کی ایس او پیز کے مطابق آج شام چھ بجے نوشہرہ کے علاقے زیارت کاکا صاحب میں ان کی تدفیق کی جائے گی۔
جمشید الدیشن پاکستان میں کرونا وائرس سے دو روز کے دوران ہلاک ہونے والے دوسرے رکنِ اسمبلی ہیں۔ منگل کو سندھ کے وزیر کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ اس وائرس سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے تھے۔
پاکستان میں کرونا مریضوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ
پاکستان میں ایک روز کے دوران کرونا وائرس کے اب تک سب سے زیادہ چار ہزار 131 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 80 ہزار 414 تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے نئے کیسز اور اموات کی شرح میں مئی کے مہینے میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور اب تک کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کرونا وائرس میں مبتلا مزید 67 افراد چل بسے۔ اس طرح اس وبا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1688 ہو گئی ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے اب تک پانچ لاکھ 95 ہزار 344 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور اس وبا کے شکار ہونے والے 28 ہزار 923 مریض شفایاب ہو چکے ہیں۔
چین نے کرونا وائرس سے متعلق معلومات تاخیر سے فراہم کی، عالمی ادارہ صحت
خبر رساں ادارے، ایسوسی ایٹیڈ پریس نے اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اندرونی طور پر عالمی ادارہ صحت کے حکام کرونا وائرس کے بارے چین سے ملنے والی معلومات پر عدم اطمنان کا اظہار کرتے رہے۔ ان حکام نے اندرونی اجلاسوں میں اپنے ان خدشات اور تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ حکام سخت مایوسی کا شکار تھے۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس کا کہنا ہے کہ جنوری کے پورے مہینے عالمی ادارہ صحت چین کی سر عام تعریف کرتا رہا کہ اس نے کرونا وائرس کے سلسلے میں بر وقت مطلع کیا۔ اس نے بارہا چین کی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے فوری طور پر وائرس کا جینیاتی نقشہ فراہم کیا۔ عالمی ادارہ صحت نے یہ بھی کہا کہ چین کا کام اور شفافیت بہت متاثر کن ہے۔
اے پی کے مطابق، پس پردہ کہانی بالکل مختلف تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے حکام کو مطلوبہ معلومات نہیں مل رہی تھیں اور وہ سخت مایوسی کے شکار تھے۔
تعریفوں کے باوجود حقیقت یہ تھی کہ چین نے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جینیاتی نقشہ دبائے رکھا۔ اور اس وقت تک تین ملکوں کی تجربہ گاہوں میں ان معلومات کو مکمل طور سے ڈی کوڈ کر لیا گیا۔ اندرونی دستاویزات اور انٹرویوز سے پتا چلتا ہے کہ چین کے پبلک ہیلتھ نظام پر نہ صرف سخت کنٹرول تھا بلکہ مسابقت بھی جاری تھی۔ چین کی سرکاری لیبارٹری نے اسے اس وقت جاری کیا جب اس سے قبل ایک اور لیبارٹری اس کو اپنی ویب سائٹ پر جاری کر چکی تھی۔
چین نے مریضوں اور کیسیز کے بارے میں مواد کو بھی روکے رکھا اور تقریباً دو ہفتوں بعد عالمی ادارہ صحت کو تفصیلی طور پر فراہم کیا۔
مظفر آباد: لاک ڈاﺅن میں نرمی، کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے لاک ڈاﺅن میں نرمی دیتے ہوتے ہوئے حفاظتی تدابیر کے ساتھ کاروباری مراکز کھولنے کی اجازت دیدی ہے، جبکہ جمعہ اور منگل کو مکمل لاک ڈاون ہوگا۔
ٹرانسپورٹ کے حوالے سے بدھ کو حکومت کی جانب سے ایس او پی جاری کیا جائے گا، جبکہ تعلیمی ادارے، عوامی اجتماعات، کھیل کے میدان، شادی ہالز، بیوٹی پارلرز بند رہیں گے۔
پاکستانی کشمیر کے وزیر اور حکومتی ترجمان، مصطفیٰ بشیر نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستانی کشمیر میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی بدستور برقرار رہے گی۔
ترجمان نے کہا کہ 12 سال سے کم اور ساٹھ سال سے زائد افراد کے بازاروں میں آنے پر پابندی ہوگی۔ تاجروں پر محکمہ صحت کی ایس او پی فالو نہ کرنے کی صورت میں پانچ سے 15 ہزار کا جرمانہ ہو گا۔ درمیانی درجے کے ہوٹلوں کو خلاف ورزی کی صورت میں 15 ہزار اور بڑے ہوٹلوں کو ایک لاکھ تک جرمانہ ہوگا۔
مساجد، امام بارگاہوں میں ایس او پی تحت عبادت کی اجازت ہو گی۔ خریدار کیلئے ماسک نہ پہننے کی صورت میں تاجر کوئی بھی چیز فروخت نہیں کرے گا۔ دکانداروں کی جانب سے خلاف ورزی کی صورت میں پانچ سے پندرہ ہزار جرمانہ ہوگا۔
کاروبار فجر سے اذان مغرب تک کھلے رکھے جا سکیں گے۔ بیکریز، سبزی و فروٹ، دودھ، دہی، گوشت، مرغی کی شاپس رات آٹھ تک کھلی رکھی جا سکیں گی۔
حفاظتی اقدامات کے حوالے سے جاری ہونے والی ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔ ریسٹورنس کے اندر بیٹھ کر کھانا کھانے پر پابندی ہو گی۔ بنک، پرائیویٹ ادارے کم سے کم سٹاف سے کیساتھ کام کریں گے اور سٹاف، کسٹمرز کے درمیان چھ فٹ کا فاصلہ یقینی بنائیں گے۔
ایس او پیز کی خلاف ورزی پر مجسٹریٹ موقع پر کاروبار سیل کرنےاور جرمانے کرنے کے مجاز ہوں گے۔ گھر سے باہر نکلنے والے شخص کو ماسک لازمی پہننا ہوگا خلاف ورزی پر پانچ سو روپے جرمانہ ہوگا۔