'وائرس فری' نیوزی لینڈ میں دوبارہ کرونا کے کیسز سامنے آ گئے
نیوزی لینڈ میں دوبارہ کرونا وائرس کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد کرونا سے نجات حاصل کرنے والے ملک میں دوبارہ احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
نیوزی لینڈ نے کہا ہے کہ ڈیفینس فورس سرحدوں پر سختی کرے گی تاکہ کرونا وائرس کا کوئی بھی مشتبہ مریض قرنطینہ کے بغیر ملک میں داخل نہ ہو سکے۔
نیوزی لینڈ نے رواں ماہ اعلان کیا تھا کہ ملک میں کرونا کا اب کوئی مریض نہیں ہے اور نیوزی لینڈ کرونا وائرس فری ملک بن گیا ہے۔ تاہم منگل کو برطانیہ سے آنے والی دو خواتین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جنہیں قرنطینہ میں پورا وقت گزارے بغیر نیوزی لینڈ میں داخلے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا: ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 21 ہزار سے زیادہ کارروائیاں
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے سلسلے میں حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی پر 21 ہزار 274 کارروائیاں کی گئی ہیں۔
چیف سیکرٹری آفس سے جاری رپورٹ کے مطابق صوبے میں منگل کو کی جانے والی کارروائیوں کے دوران
کرونا کی احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی پر مختلف کاروباری افراد پر آٹھ لاکھ 45 ہزار 412 روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
اسی طرح حکومتی احکامات نظر انداز کرنے پر 263 دکانوں کو سیل کیا گیا ہے جب کہ پانچ ہزار 420 افراد کو وارننگز جاری کی گئی ہیں۔
بیجنگ میں اسکول بند، 1200 سے زیادہ فلائٹس منسوخ
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں کرونا وائرس کے کیسز ایک مرتبہ پھر سامنے آنے کے بعد شہر کے تمام اسکول بند کر دیے گئے جب کہ بدھ کو شیڈول تمام 1225 فلائٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
بیجنگ میں بدھ کو مزید 31 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بچوں کے اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور انہیں آن لائن کلاسز کے ذریعے تعلیم دی جا رہی ہے۔
چین نے ملک بھر میں کرونا وائرس پر قابو پانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم بیجنگ میں مسلسل چوتھے روز نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کرونا وائرس کی دوسری لہر آنے کے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام نے شہر کے ان علاقوں میں شہریوں کے سفر پر پابندی عائد کر دی ہے جہاں کرونا کے پھیلنے کا خدشہ موجود ہے جب کہ 30 شہری کمپاؤنڈز کو سیل کر دیا گیا ہے۔
بیجنگ میں گزشتہ چھ روز کے دوران کرونا کے 137 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد حکام نے 11 مارکیٹوں کو بند کر دیا ہے جب کہ ہزاروں دکانوں پر جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔ وائرس کا شکار مزید مریضوں کا پتا لگانے کے لیے بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی جا رہی ہے۔
بیجنگ کے حکام نے شہر کے 'میڈیم اور ہائی رِسک' والے علاقوں میں شہریوں پر سفری پابندیاں بھی عائد کی ہیں جب کہ بیجنگ سے کسی دوسرے علاقے میں جانے والوں کے لیے ٹیسٹ کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
چین کے متعدد صوبے بیجنگ سے آنے والے مسافروں کو قرنطینہ کر رہے ہیں۔
بیجنگ شہر کے ترجمان ژو ہی جیان نے کہا ہے کہ چین کے دارالحکومت میں عالمی وبا کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔
حکام اندیشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ بیجنگ میں کرونا وائرس کی حالیہ لہر شہر کی ایک بڑی مارکیٹ 'زنفاڈی' سے آئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 30 مئی سے اب تک دو لاکھ سے زائد لوگ اس مارکیٹ کا دورہ کر چکے ہیں۔ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مارکیٹ میں کام کرنے والے 8000 سے زائد افراد کا کرونا ٹیسٹ کیا گیا ہے اور انہیں قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔
چین کے سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول نے کہا ہے کہ بیجنگ میں پایا جانے والا کرونا وائرس اسی قسم کا ہے جو یورپ میں پھیلا تھا۔
بدھ کو بیجنگ کے علاوہ چین کے دیگر علاقوں میں بھی کرونا وائرس کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 11 لوگ بیرونِ ملک آئے تھے جب کہ دو کیسز مقامی منتقلی کے ہیں۔
کرونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے والی دوا مل گئی
ایک سستی اور عام استعمال کی دوا 'ڈیگسامیتھازون' کرونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے کی کوششوں میں مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اسے سائنس دانوں نے بڑی پیش رفت قرار دیا ہے۔
یہ دوا دوسری بیماریوں سے پیدا ہوجانے والی جلن کو کم کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ منگل کو اس دوا کے تجربات کے نتائج کا اعلان کیا گیا جن سے ظاہر ہوا کہ اس نے اسپتالوں میں داخل کرونا وائرس کے شدید بیمار مریضوں کی اموات میں ایک تہائی کمی کی ہے۔
تجربات کی سربراہی کرنے والے ماہرین نے کہا ہے کہ نتائج سے ترغیب ملتی ہے کہ اس دوا کو کرونا وائرس کے شکار شدید بیمار مریضوں کے لیے فوری طور پر معیاری علاج بن جانا چاہیے۔
آکسفرڈ یونیورسٹی کے پروفیسر مارٹن لینڈری نے ریکوری ٹرائل کے نام سے کیے جانے والے تجربات کی مشترکہ طور پر سربراہی کی۔ ان کے مطابق، نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس میں مبتلا ایسے مریض جو وینٹی لیٹرز پر ہوں یا انھیں آکسیجن کی ضرورت ہو، اگر انھیں ڈیگسامیتھازون دی جائے تو زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں اور ایسا بہت کم قیمت پر کیا جاسکتا ہے۔